Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کا مہینہ

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

تک خدا کے نام پر سوشل سروس کرتی رہیں، مگر اُنھیں اپنے اِس عمل کے دوران کبھی سچائی کا تجربہ نہیں ہوا۔ وہ مسلسل طور پر مذہبی اور روحانی اعتبار سے سوہانِ روح (agony) میں مبتلا رہیں (ٹائم میگزین، 3 ستمبر 2007ء)۔ اب اس خبر پر آپ باہم ہمدردانہ تبادلۂ خیال کریں کہ مدرٹریسا کے ساتھ یہ ٹریجڈی کیوں پیش آئی۔ تواصی کے عمل کا دوسرا موضوع صبر ہے۔ صبر کوئی انفعالی چیز نہیں۔ وہ اعلیٰ درجے کا مثبت عمل ہے۔ اِس دنیا میں آدمی کو مسلسل طور پر ناموافق حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایسی حالت میں تواصی بالصبر یہ ہے کہ دو آدمی یا چند آدمی اِس پر گفتگو کریں کہ ناموافق حالات کے باوجود، کس طرح ایمان اور عمل صالح کی زندگی کی منصوبہ بندی کی جائے۔ میرے تجربے کے مطابق ، اِس تواصی کا پہلا میدان آدمی کا اپنا خاندان ہے، خاندان، عورت اور مرد کے اُس مجموعے کا نام ہے جن کے درمیان خونی رشتہ (blood relationship) ہوتا ہے۔ اِس دنیا میں سماجی تعلقات کے درمیان سب سے زیادہ طاقت ور رشتہ خونی رشتہ ہوتا ہے۔ یہ خونی رشتہ اِنٹلکچول ایکسچینج کے لیے بے حد مفید ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ باہمی تبادلۂ خیال کے لیے دونوں فریق کے درمیان باہمی موانسَت بے حد ضروری ہے۔ اور خاندانی افراد کے درمیان یہ موانسَت کامل درجے میں پائی جاتی ہے۔ صحت مند تبادلۂ خیال کے لیے ایک لازمی شرط ہے، اور وہ یہ ہے کہ ساری گفتگو ’حق‘ اور ’صبر‘ کے موضوع پر کی جائے۔ دیگر موضوعات سے مکمل طور پر پرہیز کیا جائے۔ دیگر موضوعات مثلاً نفرت اور شکایت کا چرچا، دنیوی اہمیت کی چیزیں اور سطحی موضوعات پر تفریحی باتیں، وغیرہ۔ یہ سب اِس معاملے میں ڈسٹرکشن ہیں۔ اور ڈسٹرکشن اتنی زیادہ تباہ کن چیز ہے جس کا تحمل ایک حق پرست آدمی کبھی نہیں کر سکتا۔ قرآن میں اہل بیتِ رسول کے بارے میں ایک آیت آئی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: یرِیدُ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page