Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ آدمی دوسرے کے لیے زحمت (nuisance) پیدا کرنے کا باعث نہ بنے۔ صبر واعراض کا اصول موجودہ زمانے میں مسلمان عام طور پر شکایت کی نفسیات میں جی رہے ہیں، وہ دوسری قوموں کو غیر بلکہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ان کے مقررین ومحررین ہمیشہ دوسروں کے خلاف شکایت کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ اگر ان سے کہا جائے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو ان کا جواب ہوگا: Should you ignore Gujarat 2002, Assam, Muzaffarnagar, etc., or the umpteen fake terror cases/encounters or the daily conspiracies of the Sangh Parivar in so many ways that make life difficult for the Muslim community. مگر اس معاملے میں قرآن کا جواب مختلف ہوگا، اور وہ یہ کہ آپ کو اس قسم کے منفی واقعات کو نظر انداز ہی کرنا ہے۔ آپ کو اپنے مفروضہ دشمن کی نام نہاد سازشوں کو بھلا کر اپنی زندگی کو مثبت بنیاد پر تعمیر کرنا ہے۔ قرآن میں اس طریقے کو صبر واعراض کہا گیا ہے، اور صبر واعراض کے بغیر کوئی قوم اس دنیا میں ہرگز ترقی نہیں کر سکتی۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا (14:12)۔ یعنی، اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے ہم اس پر صبر ہی کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو آزادی اور مقابلہ (competition) کے اصول پر بنایا ہے۔ یہاں کوئی بھی نظام ہو، اور کسی کی بھی حکومت ہو، ہمیشہ ایک کو دوسرے سے کچھ نہ کچھ ایذاء (harm) کا تجربہ ہوگا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے واقعات کو شکایت کا موضوع نہ بنائے بلکہ وہ اس کو مینج (manage) کرنے کی تدبیر کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page