صبر و اعراض کا اصول
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے : وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئاً (3:120)۔ یعنی ، اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ فطرت کے نظام کے مطابق اس دنیا میں اصل مسئلہ سازش (conspiracy) کی موجودگی نہیں ہے ، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت نہ پائی جائے ۔ اس لیے سازش کے خلاف شکایت کرنا مکمل طور پر ایک بے فائدہ کام ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پیدا کی جائے تا کہ سازش کرنے والوں کی سازش عملاً مؤثر نہ ہو سکے۔ قرآن کی تعلیمات کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کو یہ بتاتا ہے کہ انسان کے بارے میں خالق کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس تخلیقی منصوبہ کو جانے ، اور اس کے مطابق اپنی سرگرمیوں کا نقشہ بنائے۔ کوئی فرد یا کوئی قوم اگر اس تخلیقی منصوبے کو نظر انداز کرے اور خود اپنے ذہن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے تو یقینی طور پر اس دنیا میں اس کا منصوبہ نا کام ہو جائے گا۔ یہی حقیقت پسندی ہے ، اور اس دنیا میں حقیقت پسندی ہی سب سے بڑا اصول ہے۔ قرآن میں انسان کی پیدائش کی حکمت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : الَّذِي خَلَقَ المَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً (67:2)۔ یعنی ، اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے۔ اس حکمتِ ابتلا کی بنا پر ، ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ جب انسان اپنی آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے تو اس سے فطری طور پر دنیا میں چیلنج اور مسابقت (competition) کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ چیلنج اور مسابقت کا یہ ماحول لازماً دنیا میں رہے گا۔ اس بنا پر یہاں لازماً ایسا ہوگا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader