تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا، ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ اعراض کیا جائے، نہ کہ ٹکراؤ شروع کر دیا جائے۔ اگر آپ ایسے موقع پر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں تو وہ ہمیشہ چین ری ایکشن ( chain reaction ) کا سبب بنے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ ہمیشہ خارجی مسائل میں الجھے رہیں گے، اور کبھی اپنے منصوبے کے مطابق مؤثر عمل شروع نہ کر سکیں گے۔ دوسروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو خود اپنے کام میں استعمال نہیں کیا، بلکہ اس کو دوسروں کی مخالفت میں ضائع کر دیا۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں اوائڈنس ( avoidance ) کا طریقہ۔ اس طرح کے معاملے میں یہی واحد طریقہ قابلِ عمل ہے، کوئی دوسرا طریقہ اس معاملہ میں ورک ( work ) کرنے والا نہیں۔ جب آدمی دوسرے کی طرف سے پیش آنے والے ناخوش گوار تجربے پر اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس کے لیے ایک پروسیلف ( pro-self ) طریقہ ہوتا ہے۔ اس طرح وہ خود اپنے وقت اور اپنی انرجی ( energy ) کو بچاتا ہے، تا کہ اس کو وہ خود اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے ۔ صبر کی عظمت ایک حدیث رسول صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِي سَعِیدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ، فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ، فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ : يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ ) صحیح البخاری، حدیث

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader