تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ آپ کے موافق ہوگا۔ اس دنیا کے لیے فطرت کا قانون یہی ہے کہ یہاں کسی شخص یا گروہ کو جزئی مواقع (partial opportunities) ملیں، کسی کو بھی یہاں کلی مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اس لیے دانش مندی یہ ہے کہ ناموافق پہلوؤں کو نظر انداز کیا جائے اور موافق پہلوؤں کو دریافت کر کے انھیں استعمال کیا جائے۔ یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول سے مزید واضح ہوتی ہے: اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (المجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک انسان، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ اپنے ذاتی انٹرسٹ کے لیے اقدام کرتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ایک نئی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ یہ نئی صورت حال نئے مواقع کھولتی ہے۔ اگر اہل اسلام مذکورہ انسان کے مذہب اور فکر کو نظر انداز کریں تو وہ نئے مواقع کو استعمال کر کے اپنے دین اور دنیا دونوں کی تائید کا کام لے سکتے ہیں۔ دانش مندانہ طریقہ صحابی رسول عمیر بن حبیب بن حماشہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: وَمَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2258)۔ یعنی، جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہوناپڑے گا۔ اس قول صحابی میں اجتماعی زندگی کی ایک حکمت کو بتایا گیا ہے۔ اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader