تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے انسان کو اللہ کے یہاں النفس المطمئنہ (الفجر، 27: 89) کا درجہ دیا جائے گا۔ یعنی عقدہ نفسی سے پاک انسان (complex-free soul) کا درجہ۔ یہی وہ انسان ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے لیے جنت کے دروازے اپنے آپ کھلتے چلے جائیں گے، حتیٰ کہ کوئی دروازہ اس کے لیے بند نہ رہے گا۔ صبر پیسپائی نہیں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ (3:146) ۔ یعنی ، اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے، نہ انھوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ دبے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں سبیل اللہ کے حوالے سے جو بات کہی گئی ہے۔ اس کا تعلق مخصوص طور پر حالت قتال سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ حکم عام ہے۔ یعنی دینی زندگی اختیار کرنے کے بعد دنیا میں جو مصائب و شدائد پیدا ہوتے ہیں، اس پر انھوں نے استقامت کا طریقہ اختیار کیا۔ صبر کا لفظی مطلب برداشت کرنا ہے۔ دانش مند انسان کے لیے یہ برداشت برائے برداشت نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک اسٹریٹیجی (strategy) ہوتی ہے۔ یعنی وقتی صورت حال کو نظر انداز کرتے ہوئے مستقبل کا نقشہ بنانا، وقتی حالات سے اوپر اٹھ کر غیر متاثر ذہن کے ساتھ دوبارہ سوچنا، اور یہ معلوم کرنا کہ پیش آمدہ حالات میں زیادہ مؤثر عمل کیا ہوسکتا ہے۔ صبر کا مطلب پسپائی نہیں ہے، بلکہ زیادہ بہتر اقدام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader