Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک طریقِ عمل کارگر ثابت نہیں ہوا تو اس کے بعد یہ دریافت کرنا کہ دوسرا زیادہ مؤثر طریق عمل کیا ہو سکتا ہے۔ صبر کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی حالات کا شکار (victim) نہ بنے، وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر سوچے، وہ ردِ عمل (reaction) سے اوپر اٹھ کر مثبت ذہن کے ساتھ منصوبہ بندی کرے ۔ انسان کی زندگی میں ایسی صورتِ حال بار بار پیش آتی ہے۔ انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی۔ اس طرح کی صورتِ حال میں جو شخص مذکورہ معنوں میں صبر کا ثبوت دے، وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے۔ اذیت پر صبر ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں : عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: اِلْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ قَالَ: حَجَّاجٌ: خَيْرٌ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ (حدیث نمبر 5022)۔ یعنی عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ مومن جو لوگوں سے مخالطت کرتا ہے، اور ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، وہ اجر میں اس سے زیادہ ہے جو مخالطت نہیں کرتا، اور لوگوں کی اذیت پر صبر نہیں کرتا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں، وہ بہتر ہے ان سے جو لوگوں سے مخالطت نہ کرے ۔ مخالطت کا مطلب ملنا جلنا (social intercourse) ہے۔ جو شخص اپنے آپ میں جینے والا ہو، اس کو لوگوں کی طرف سے کوئی اذیت نہیں پیش آئے گی۔ لیکن جو شخص لوگوں کے درمیان رہے، لوگوں کے ساتھ اس کا انٹرایکشن ہوتا ہو، لوگوں کے ساتھ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page