Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (39:10)۔ یعنی، بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ ایک آدمی آپ کے ساتھ اشتعال انگیزی کرے اور آپ کے اندر غصے کی آگ بھڑک اٹھے تو ایسی حالت میں اللہ کا حکم ہے کہ تم جوابی غصے کی کارروائی نہ کرو بلکہ اس پر صبر کی روش اختیار کرتے ہوئے اُس آدمی کو معاف کر دو (الشوریٰ، 42:37)۔ گویا کسی کے دل میں غصے کا آنا اُس کے لیے صبر کی عبادت ادا کرنے کا آنا ہے۔ یہ عبادت بلا شبہ اُسی طرح مطلوب ہے جس طرح دوسری معروف عبادتیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی قدردانی اس طرح فرمائی ہے کہ قرآن میں ان کو اہل ہمت اور اولو العزم کے خطاب سے نوازا ہے (الشوریٰ، 43:42)۔ یہی معاملہ دوسرے تمام منفی جذبات کا ہے۔ جب بھی ایک آدمی کے اندر کسی کے برے سلوک کے نتیجے میں نفرت، انتقام اور حسد جیسے منفی جذبات بھڑکیں تو یہ اس بات کا خاموش اعلان ہوتا ہے کہ اُس آدمی کے لیے صبر کی اعلیٰ عبادت ادا کرنے کا وقت آ گیا۔ وہ فریق ثانی کی طرف سے بدسلوکی پر صبر کر کے یک طرفہ طور پر حسن اخلاق کا ثبوت دے اور اس کا مستحق بن جائے کہ اعلیٰ ترین عبادت پر اُس کو اعلیٰ ترین انعام کا مستحق قرار دیا جائے۔ دعوت اور صبر اسلامی مشن کا پروگرام بنیادی طور پر دو نکات پر مشتمل ہے ــــــ دعوت اور صبر۔ دعوت کا مطلب ہے، قرآن کے خدائی پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچانا، اور صبر کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ تمام امور میں حالت موجودہ پر رضا مندی کا طریقہ اختیار کرنا۔ جس کو اسٹیٹس کو ازم کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page