Urdu book · تعمیرِ شخصیت

دعوت اور صبر

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ صبر بے حد ضروری ہے۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا میں خود فطری قانون کے تحت، ہمیشہ نا خوشگوار واقعات پیش آتے ہیں اگر ایسا ہو کہ آدمی ہر نا پسندیدہ صورت حال پر لوگوں سے ٹکرانے لگے تو اس کے پاس دعوت کے کام کے لیے وقت ہی نہیں رہے گا۔ دوسری طرف داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل فضا ختم ہو جائے گی جو دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ضروری ہے۔ دعوت کا کام ہمیشہ قربانی پر ہوتا ہے۔ اس قربانی کا تعلق جان و مال کی قربانی سے زیادہ جذبات کی قربانی پر ہے۔ دوسرے انسانوں کی طرف سے بار بار ایسے ناموافق تجربے ہوتے ہیں جو داعی کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے والے ہیں، جو داعی کو نفرت اور انتقام کی طرف لے جانے والے ہیں۔ اگر داعی اس منفی نفسیات سے مغلوب ہو جائے تو دعوت کے کام کی مطلوب فضا ہی ختم ہو جائے گی۔ اس لیے ہر داعی کو جذبات کی قربانی دے کر اپنے آپ کو مثبت نفسیات پر قائم رکھنا پڑتا ہے۔ یہ دعوت کی لازمی شرط ہے۔ اس کے بغیر دعوت کا کام نہیں ہو سکتا۔ اسی کو اسٹیٹس کو ازم کہا جاتا ہے اور شریعت میں اسی کا نام صبر ہے۔ صبر کی اسی قربانی پر دعوت کا کام ہمیشہ انجام پاتا ہے۔ صبر نہیں تو دعوت بھی نہیں۔ صبر دراصل دعوت کی قیمت ہے۔ صبر کی یہ قیمت ادا کرنے کے بعد ہی وہ چیز ظہور میں آتی ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ صبر دوسرے لفظوں میں وہی چیز ہے جس کو تجارت کی اصطلاح میں کسٹمر فرینڈلی بہیویر (customer friendly behaviour) کہا جاتا ہے۔ تاجر اپنے کسٹمر کے ساتھ یک طرفہ طور پر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح داعی اپنے مدعو کے معاملے میں یک طرفہ طور پر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اسی مدعو فرینڈلی سلوک کا نام صبر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page