صبر و تقویٰ
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر و تقویٰ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز ہم نے جوڑا جوڑ پیدا کی ہے (51:49)۔ یہ فطرت کا ایک آفاقی اصول ہے۔ یہاں جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے وہ دو چیزوں کے تعامل سے رونما ہوتا ہے۔ کوئی بھی چیز تنہا اس دنیا میں کوئی واقعہ یا نتیجہ ظاہر نہیں کر سکتی۔ اس اصول کا تعلق اجتماعی زندگی سے بھی ہے۔ اسی کو ایک پرانی مثل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ایک آدمی اپنا ہاتھ فضا میں ہلاتا رہے تو اس سے تالی نہیں بچے گی۔ تالی بجنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا ہاتھ اس سے ٹکرائے۔ جب تک دوسرا ہاتھ نہ اٹھے تالی کا بجنا بھی رکا رہے گا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کی ضرر رسانی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ مخالف کی ضرر رسانی کا ارادہ اس وقت کامیاب ہوتا ہے کہ فریق ثانی بھی اپنی نادانی یا سادہ لوحی سے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کر بیٹھے۔ فریق ثانی اگر ”دوسرا ہاتھ“ بننے سے رک جائے تو دشمن کی مخالفانہ تالی بھی بجنے والی نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اہل اسلام کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کو اہل اسلام سے سخت بغض اور عداوت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120)۔ یعنی، اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اللہ نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اس آیت کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ دشمن کی سازش صرف 50 فی صد کی حد تک کارگر ہے۔ وہ اپنی تکمیل تک صرف اس وقت پہنچتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنی کسی غلطی سے اس کے منصوبہ کا بقیہ 50 فی صد حصہ پورا کر دے۔ صبر و تقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader