تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے منصوبہ کا یہ بقیہ حصہ دشمن کو حاصل نہ ہو۔ جب ایسا ہوگا تو اس کی مخالفانہ تدبیر لازمی طور پر بے نتیجہ ہوکر رہ جائے گی۔ اس قانون کے تحت اللہ تعالیٰ نے آپ کے معاملہ کو خود آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ صبر، عجلت قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ ـــــ پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا، اور ان کے لیے عجلت نہ کرو (46:35)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہے صابرانہ عزیمت، اور دوسری چیز ہے بے صبری اور عجلت ۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ان آیتوں کا مطالعہ کیجیے جو نبوت کے ابتدائی دور میں مکہ میں اتاری گئیں: اے کپڑے میں لپٹنے والے، اٹھ اور لوگوں کو ڈرا، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ۔ اور گندگی کو چھوڑ دے۔ اور ایسا نہ ہو کہ احسان کرو اور زیادہ بدلہ چاہو۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کرو (74: 1-7)۔ سورۂ مدثر کی ان آیات کی روشنی میں مذکورہ فرق کو متعین کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ موجودہ حالات میں صرف انہی چند احکام پر عمل کرو، اور بقیہ تمام معاملات کو صبر کے خانہ میں ڈال دو۔ یعنی انذار وتبشیر کے انداز میں لوگوں کو آخرت کے مسئلہ سے آگاہ کرو۔ اللہ کی عظمت و کبریائی تمہارا موضوعِ کلام بن جائے۔ اچھے اخلاق اور اعلیٰ کردار میں اپنے آپ کو ڈھال لو۔ ہر قسم کی اعتقادی اور عملی برائیوں سے آخری حد تک دور ہو جاؤ۔ لوگوں کے ساتھ بہتر سلوک کرو، مگر ان سے بدلہ پانے کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا کے لیے۔ یہ گویا پانچ نکاتی پروگرام تھا جو اس وقت دیا گیا۔ اگرچہ اس وقت مکہ میں اس کے سوا بہت سے مسائل تھے ۔ مثلاً کعبہ میں 360 بتوں کا ہونا، سماج میں طرح طرح کے جرائم، مکہ کی پارلی منٹ (دار الندوہ) پر مشرکین کا قبضہ، عرب میں رومی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader