Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

pressure استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ زمانے میں سیب کی اسی مقدار سے بہت زیادہ جوس نکالا جاتا ہے، جتنا کہ پہلے نکلتا تھا۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر پوٹینشل کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کم پریشر میں وہ کم نکلتا ہے، لیکن جب پریشر بڑھ جائے، تو اس کی مقدار بھی بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ جب مشکل حالات زیادہ ہوں، اس کے باوجود اہل ایمان سچائی کی روش پر صبر کر کے قائم رہیں، تو اس کشاکش کے دوران انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج کرتی ہے۔ ایسی حالت میں زیادہ مشکلات کے باوجود ایمان کی روش پر جمیے رہنا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے انسان کے اندر تخلیقی صلاحیت (creativity) میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے انسان کے اندر محبت الٰہی اور خوف خدا میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے متقیانہ سوچ بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، وغیرہ۔ رد عمل نہیں صبر ابتدائی طور پر اس بات کا نام ہے کہ کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آئے تو آدمی برداشت کرلے۔ آہ و ویلا کرنے کے بجائے وہ تحمّل کا طریقہ اختیار کرے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ری ایکشن (reaction) سے بچائے۔ اور ناخوشگوار صورت حال کو اندر ہی اندر سہہ لے۔ صبر اپنے وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے پیس فل پلاننگ کا نام ہے۔ بے صبری یہ ہے کہ آدمی ری ایکشن کا طریقہ اختیار کرے، اور صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو آخری حد تک ری ایکشن سے بچائے۔ بلکہ خاموش انداز سے پرامن تدبیر کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرےَ۔ صبر کا معاملہ اجتماعی زندگی میں جب بھی پیش آئے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹکراؤ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page