تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو آدمی کوئی چیز حاصل کرنے کا خواہشمند ہو اس کو پیشگی طور پر یہ جان لینا چاہیے کہ یہاں ترقی کا سفر کبھی ہموار راستوں سے طے نہیں ہوتا۔ یہاں مسائل پر قابو پانے کے بعد ہی کسی آدمی کے لیے کامیابی کے دروازے کھلتے ہیں۔ جو آدمی مسائل و مشکلات کو عبور کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو، اس کو خدا کی اس دنیا میں کسی قسم کی کامیابی کی امید بھی نہ رکھنا چاہیے۔ خدا کی دنیا ویسی ہی رہے گی جیسا کہ اس کو بنایا گیا ہے۔ اس کو بدلنا یقینی طور پر ہمارے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے یہاں زندگی اور کامیابی کی صرف ایک صورت ہے ــــ دنیا میں قائم شدہ نظامِ فطرت سے وہ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرلے۔ اس کے سوا ہر دوسری صورت آدمی کی ناکامی میں اضافہ کرنے والی ہے، نہ کہ اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے والی۔ صبر کا انعام قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب انعام دیا جائے گا: اِنَّمَا يُوَفَّی الشَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (10: 39)۔ یعنی، بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ قرآن کی اس آیت میں جو بات بیان کی گئی ہے، وہ کوئی پُر اسرار بات نہیں ہے، وہ ایک معلوم حقیقت کا بیان ہے۔ وہ میدانِ جنگ میں صابرانہ لڑائی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ وہ ایمانی زندگی میں صابرانہ روش سے متعلق ہے۔ اس آیت میں انعام سے مراد مومن کے شخصی ارتقا (personality development) میں اضافہ ہونا ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ قدیم زمانے میں سیب سے رس (juice) نکالنے کے لیے سادہ طریقہ استعمال ہوتا تھا۔ اس لیے رس کی مقدار کم ہوا کرتی تھی۔ موجودہ زمانے میں سیب سے رس نکالنے کے لیے مشینی دباؤ (mecahnical

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader