تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں کوئی بھی شخص کسی کے ظلم کو نہیں جھیلتا۔ ہر آدمی اپنی غلط منصوبہ بندی کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ خود اپنی غلطی کو دریافت کرے ۔ وہ بے لاگ انداز میں مطالعہ کر کے خود اپنی کوتاہی کو دریافت کرے، اور پھر اس کے مطابق اپنی اصلاح کرے۔ یہ دنیا اپنی اصلاح آپ کرنے کا میدان ہے، نہ کہ دوسرے کی شکایت کرنے کا۔ صبر کا بدلہ قرآن میں صبر کی بے حد تا کید کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے اوپر زیادتی کرے اور تم صبر نہ کر سکو تو اس کے ساتھ تم اتنا ہی کر سکتے ہو جتنا اس نے تمھارے ساتھ کیا ہے۔ مگر یہ صرف رخصت کی بات ہے۔ ورنہ اعلیٰ درجہ تو یہ ہے کہ تم معاف کر دو اور انتقام کے بجائے اصلاح کا انداز اختیار کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمھارا اجر اللہ کے ذمہ ہو جائے گا اور تم کو کوئی نقصان نہ ہوگا: فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى الله (42:40)۔ دنیا کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے تکلیف پہنچتی ہے۔ کبھی ایک آدمی دوسرے کو ایک قول دیتا ہے مگر بعد کو وہ اسے پورا نہیں کرتا۔ کبھی کوئی شخص اپنے کو مضبوط پوزیشن میں پا کر کمزور فریق کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔ کبھی کوئی شکایت پیش آنے کی بنا پر ایک شخص دوسرے شخص کو مٹانے اور برباد کرنے پر تل جاتا ہے۔ کبھی کوئی شخص موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنے ساتھی کو اس کا ایک جائز حق دینے پر تیار نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کی ترقی دیکھ کر آدمی کے اندر حسد پیدا ہوتا ہے اور وہ ناحق اپنے بھائی کی بربادی کے درپے ہو جاتا ہے۔ اب اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص مظلوم ہے اس کے دل میں ظالم کے خلاف آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ وہ اس کی زیادتیوں کو بھولنے اور اس کو معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader