تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
شک نہیں کہ ایسے مواقع پر دل کے زخم کو بھلا دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ لیکن اگر آدمی ایسا کرے کہ معاملہ کو اللہ کے اوپر ڈال دے، وہ اللہ کی خاطر اس کو برداشت کرے تو اس کا یہ عمل کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ جو چیز وہ انسانوں سے نہ پا سکا اس کو وہ خدا سے پا کر رہے گا۔ ایک شخص جب کسی کو ایک قول دیتا ہے تو گویا وہ اس کو ایک بینک چیک دے رہا ہے جو عمل کے وقت کیش کیا جا سکے۔ مگر جب عمل کے وقت وہ اپنے قول سے پھر جاتا ہے تو گویا اس نے کاغذی چیک تو لکھ دیا مگر جب खाता سے اس کی رقم لینے کا وقت آیا تو اس نے ادائیگی سے انکار کر دیا۔ ایسا تجربہ کسی انسان کے لیے تلخ ترین تجربہ ہے۔ لیکن اگر وہ صبر کرے تو خدا کا وعدہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے اس کا بدلہ دے گا۔ جو چیک انسانی بینک میں کیش نہ ہو سکا وہ خدائی بینک میں کیش ہو گا، خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ جنت صبر کے اُس پار ہے صالح سماج بنانے کا سارا دار و مدار اس چھوٹی سی بات پر ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ اس طرح رہے کہ دونوں اپنے آپ کو قابو میں رکھے ہوئے ہوں۔ جس چیز کو اسلامی نظام کہا جاتا ہے، وہ کسی قسم کے سیاسی اکھڑ پچھاڑ سے وجود میں نہیں آتا۔ اور نہ گولی اور پھانسی کی منطق سے اس کو برپا کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ اس قسم کی کارروائیوں سے اسلامی نظام قائم کرنے کا اعلان کرتے ہیں، وہ یقینی طور پر یا تو غیر سنجیدہ ہیں یا مجنون ہیں۔ اسلامی نظام یا اسلامی سماج اس وقت وجود میں آتا ہے، جب کسی انسانی مجموعہ کی قابل لحاظ تعداد میں یہ مزاج پیدا ہو جائے کہ وہ اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر زندگی گزارنے لگے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شکایتوں اور تلخیوں سے اوپر اٹھ کر جینا جانتے ہوں ۔ جو اپنے خلاف مزاج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader