Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر: نفسیاتی قربانی

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

اور جب وہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ بے شک یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے۔ ہم تو پہلے ہی سے اس کو ماننے والے ہیں۔ یہ لوگ ہیں کہ ان کو ان کا اجر دوہرا دیا جائے گا اس پر کہ انھوں نے صبر کیا (28:52-54)۔ یہاں صبر سے مراد نفسیاتی صبر یا نفسیاتی قربانی ہے۔ مذکورہ اہل کتاب (عبد اللہ بن سلام، وغیرہ) نے جس ایمان کا ثبوت دیا، وہ نفسیات کی سطح پر صبر کی قربانی کے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ ارشاد ہوا ہے کہ ان کو دوہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک اس بات پر کہ انھوں نے اپنی کتاب پر ایمان رکھا۔ اور دوسرا اس بات پر کہ وہ قرآن پر ایمان لائے: مرة علی إیمانھم بكتابھم، و مرۃً علی إیمانھم بالقرآن ( صفوۃ التفاسیر، جلد 2، صفحہ 403)۔ پہلا ایمان ان کو اس "صبر" کی قیمت دینے پر ملا کہ انھوں نے اپنے آپ کو قومی دین سے اوپر اٹھایا اور پیغمبرانہ دین کا حامل بننے کا ثبوت دیا جو قومی روایات میں گم ہو چکا تھا۔ دوسرے، ایمان کے لیے ان کو اس "صبر" کی قیمت دینی پڑی کہ انھوں نے ایک " اجنبی دین" کو پہچانا اور تمام مصلحتوں کو نظر انداز کر کے اس کا ساتھ دیا۔ اس دو گونہ صبر پر وہ دہرا اجر کے مستحق قرار پائے۔ حقیقی ایمان کسی آدمی کو اس وقت ملتا ہے، جب کہ وہ اپنے آپ کو حالات سے اوپر اٹھانے کے لیے تیار ہو۔ اس کے لیے آدمی کو اپنی قوم سے کٹنا پڑتا ہے۔ اکابر کی حمایت سے محرومی کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ ظواہر سے بلند ہو کر حقائق کو دیکھنا پڑتا ہے۔ مفادات کو نظر انداز کر کے اصول کو اپنا رہنما بنانا پڑتا ہے۔ یہ ایک بے حد سخت امتحان ہے۔ غیر معمولی نفسیاتی قربانی کے بغیر اس درجہ پر پہنچنا ممکن نہیں۔ اس نفسیاتی صبر کے بغیر کوئی شخص حق کو نہیں پاسکتا اور نہ اعلیٰ ایمانی ترقی حاصل کر سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page