Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

باتوں کو نظر انداز کر دینے کی طاقت رکھتے ہوں۔ جو اپنی غلطی کو فوراً محسوس کر لیں اور اس کا اعتراف کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ جو دوسروں کو الزام دینے کے بجائے خود ذمہ داری قبول کر لیں۔ جو غلط فہمی کے مواقع پر خوش فہمی سے کام لینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ جو کسی انسان کو اس کے ”آج“ کے بجائے اس کے ”کل“ کے لحاظ سے دیکھ سکیں۔ یہ سب کچھ ٹھنڈے طریقہ سے نہیں ہوتا۔ اس کے لیے آدمی کو برداشت کی تلخیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ الفاظ رکھتے ہوئے آدمی نہ بولے۔ وہ ہر وار کو اپنے اوپر سہے۔ وہ اپنے سینہ کو دبے ہوئے جذبات کا قبرستان بنا دے۔ مختصر یہ کہ اپنے تمام حقوق کو وہ آخرت کے خانہ میں ڈال دے اور اپنی تمام ذمہ داریوں کو دنیا کے خانہ میں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جہنم کو لذتوں سے ڈھانک دیا گیا ہے اور جنت کو ناخوش گواریوں سے ڈھانک دیا گیا ہے: حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6487)۔ جو آدمی اپنے جی کی راہ پر بے روک ٹوک چلے وہ سیدھا جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص جنت میں اپنی جگہ لینا چاہے اس کو اپنی خواہشات پر روک لگانا ہوگا۔ اپنے جی میں اٹھنے والے محرکات کو دبانا ہوگا۔ ناپسندیدہ باتوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا، خواہ ان کا پورا کرنا اس کے لیے کتنا ہی تلخ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت صبر کے اُس پار ہے، اگرچہ لوگ اپنی نادانی سے اس کو بے صبری کے اُس پار سمجھ لیتے ہیں۔ صبر: نفسیاتی قربانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہودیوں اور عیسائیوں کی اکثریت نے آپ کا انکار کیا۔ تاہم ان کے کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ ان مومنین کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page