داعیانہ صبر
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
داعیانە صبر قرآن میں انذار و تبشیر اور دعوت الی اللہ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ: ﴿وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ﴾ (74:7)۔ یعنی، اور اللہ کے لیے صبر کرو۔ اس آیت میں جس صبر کا ذکر ہے اس سے مراد داعیانە صبر ہے۔ یعنی دعوت کی راہ میں مدعو کی طرف سے زیادتی یا اشتعال انگیزی کی جائے اس پر بے صبر نہ ہو جاؤ، بلکہ مدعو کی روش سے قطع نظر کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر و اعراض کے رویہ پر قائم رکھو۔ اس صبر کو اللہ کے لیے کیا جانے والا صبر اس لیے فرمایا کہ وہ تمام تر اللہ کے منصوبہ کی تکمیل کے لیے ہوتا ہے۔ وہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ داعی کے غیر صابرانہ جواب سے مدعو بدک نہ جائے اور داعی کی بات پر دھیان دینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو موجودہ دنیا میں آزمائش کے لیے رکھا ہے۔ یہاں کی محدود مدت میں انسان جیسا عمل کرے گا، اس کے مطابق اگلی لامحدود زندگی میں اس کے ساتھ انعام یا سزا کا معاملہ کیا جائے گا۔ یہ ایک بے حد نازک صورت حال ہے، کیونکہ انسان کو اگر زندگی کی اس امتحانی نوعیت سے پوری طرح باخبر نہ کیا جائے تو وہ قیامت کے دن کہہ سکتا ہے کہ ہمیں تو اس کی خبر ہی نہ تھی، ایسی حالت میں کیوں ہم کو پکڑا جاتا ہے اور ہمارا حساب لیا جاتا ہے۔ یہ ایک بے حد نازک معاملہ ہے۔ اگر لوگوں کو پوری طرح باخبر کر دیا جائے تو حجت لوگوں کے اوپر چلی جاتی ہے۔ اور اگر لوگوں کو خبردار نہ کیا جائے تو حجت اللہ کی طرف لوٹ جاتی ہے (النساء، 165)۔ چونکہ دعوت الی اللہ کا عمل اس حجت کو اللہ سے ہٹاتا ہے، اس لیے اللہ نے اس کو اپنا کام فرمایا ہے اور اس کے لیے صبر کرنے کو اللہ کے لیے صبر کرنا قرار دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader