Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

داعی گروہ اگر مدعو کی زیادتیوں پر صبر کر کے اپنا دعوتی عمل جاری رکھے تو اس کا یہ صبر اللہ کے لیے کیا جانے والا صبر ہوگا۔ اس کا اللہ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے۔ اس کے برعکس، اگر داعی مدعو کی زیادتیوں پر مشتعل ہو جائے تو اس کے متعلق کہا جائے گا کہ اس کو اللہ کے لیے صبر کرنے کا حکم دیا گیا تھا، مگر وہ اللہ کے لیے صبر کرنے پر راضی نہ ہوا۔ صبر کا سفر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر کرنے والوں کو بلا حساب اجر دیا جائے گا (39:10)۔ دوسری آیتوں اور حدیثوں کو ملا کر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لامحدود اجر کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی۔ دنیا میں جو لوگ اپنے معاملات کو صبر کے اصول پر چلائیں وہ یہاں غیر معمولی کامیابی حاصل کریں گے۔ اسی طرح جو لوگ صبر و برداشت کی قیمت دیتے ہوئے خدا کے دین کو اختیار کریں وہ آخرت میں خدا کے غیر معمولی انعامات کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔ خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو اپنی خود پسندی کو خدا پسندی میں گم کر دے۔ جو اپنی بات کے مقابلہ میں حق کی بات کو اختیار کرے۔ جو دنیا کی عزت کے مقابلہ میں آخرت کی عزت کو اہمیت دینے لگے۔ لوگوں کی طرف سے خواہ کتنی ہی تلخیاں پیش آئیں، مگر وہ اپنی طرف سے جوابی کارروائی نہ کرے ۔ اسی کا نام صبر ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بے حد مشکل راستہ ہے، مگر اس میں بھی شک نہیں کہ یہی وہ راستہ ہے جو کسی کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ جنت صبر کرنے والوں کو ملتی ہے اور صبر کرنے والا وہ ہے جو اللہ کی خاطر اپنے آپ کو ہر محرومی پر راضی کرے ۔ امتحان کی اس دنیا میں تلخیوں اور ناخوش گواریوں کے بغیر چارہ نہیں۔ جو شخص جنت کا مسافر بننا چاہے، اس کو جان لینا چاہیے کہ وہ ایک ایسے راستہ پر چلنے کا ارادہ کر رہا ہے جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page