Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اپنی تعمیر آپ

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

شکر کا عمل قرآن کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا ہے ۔ بسم اللہ کے بعد سب سے پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِين ۔ یعنی، شکر ہے خداوند عالم کے لیے ۔ قرآن کی اس آیت سے شکر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے تمام اعمال میں شکر ہی ایک ایسا عمل ہے، جس کو انسان اپنی نسبت سے اعلیٰ ترین صورت میں کر سکتا ہے۔ دوسرے تمام اعمال، مثلاً عبادت اور اخلاق اور معاملات کی ادائیگی میں مختلف اسباب سے کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے ۔ لیکن شکر کا تعلق دل اور دماغ سے ہے اور جس چیز کا تعلق دل اور دماغ سے ہو، اُس کے بارے میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اُس کو کامل ترین صورت میں ادا کر سکے۔ یہاں وہ اپنے تمام جذبات اور اپنی ساری سوچ کو خدا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ یہ خصوصیت صرف شکر کو حاصل ہے۔ شکر کیا ہے، شکر دراصل اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ انسانی معاملات میں جس چیز کو اعتراف کہا جاتا ہے، اُسی کا نام خدائی معاملے میں شکر ہے۔ ہر آدمی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ ہر ملی ہوئی چیز اُس کو کامل معنوں میں خدا کا عطیہ دکھائی دے۔ وہ کامل جذبۂ اعتراف کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ خدایا، تیرا شکر ہے۔ خدا کی نعمتوں اور رحمتوں کا کامل احساس کر کے یہ کہہ پڑنا کہ الحمد للہ رب العالمین، یہی شکر ہے اور یہ شکر بلاشبہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ چیز بہت بڑے پیمانے پر موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہاں کی ہر چیز اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ کامل طور پر انسان کے لیے موافق اسباب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے کہ انسان جب اس دنیا میں چلے پھرے اور اس کو استعمال کرے تو وہ شکر اور اعتراف کے جذبے سے سرشار ہو۔ موجودہ دنیا کی تمام قیمتی چیزیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page