تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کو سر تا سر مفت میں ملی ہوئی ہیں، سچا شکر ہی ان چیزوں کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، اُس کی حیثیت اس دنیا میں غاصب کی ہے، اور غاصب کے لیے بلا شبہ سزا ہے، نہ کہ انعام۔ شکر کے احساس کے بغیر اس دنیا میں رہنا بلا شبہ ایک ناقابل معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے، عورت کے لیے بھی اور مرد کے لیے بھی۔ شکر ایک اعلیٰ عبادت شکر کیا ہے۔ شکر اُس داخلی کیفیت کا نام ہے جو کسی نعمت کے گہرے احساس سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ انگریزی میں اس کو گریٹ فل نیس (gratefulness) کہا جاتا ہے۔ عربی زبان کی مشہور ڈکشنری لسان العرب (جلد 4، صفحہ 423) کے مطابق، احسان کی معرفت اور اس کے تذکرے کا نام شکر ہے (اَلشُّكْرُ : عِرْفَانُ الإِحْسَانِ وَنُشْرُہ)۔ راغب الاصفہانی کی کتاب المفردات فی غریب القرآن (صفحہ 265) میں بتایا گیا ہے کہ شکر کا مطلب ہے ــ نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا (اَلشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها)۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے: وَالسُّكْرُ مَعْرِفَةُ الإِحْسَانِ وَالتَّحَدُّثُ بِہ (تفسیر القرطبی، جلد 2، صفحہ 172)۔ شکر نام ہے احسان شناسی اور اس کے اعتراف کا۔ نعمت کا اعتراف (acknowledgement) ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ یہ اعتراف جب خدا کی نسبت سے ہو تو اسی کا نام شکر ہے۔ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں سب سے زیادہ ہیں، اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ خداوند ذوالجلال کا شکر ادا کرے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے اپنی ایک دعا میں فرمایا: رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3831؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 3551؛ مسند احمد، حدیث نمبر (1997)۔ یعنی اے میرے رب! تو مجھ کو اپنا بہت زیادہ شکر کرنے والا بنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader