روزہ صبر کی تربیت
Urdu book, p. 233
By Maulana Wahiduddin Khan
مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اسلامی اخلاق کے ساتھ رہے۔ یہاں دوبارہ صبر کی ضرورت ہے۔ یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں دوسروں کی طرف سے بار بار زیادتی کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کے ساتھ اسلامی اخلاق کا معاملہ وہی شخص کر سکتا ہے جو لوگوں کی زیادتیوں کو برداشت کرے۔ اسلامی اخلاق یک طرفہ حسن سلوک کا نام ہے، اور صبر کے بغیر یک طرفہ حسن سلوک کا ثبوت دینا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ مومن ایک داعی انسان ہوتا ہے۔ مومن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے بندگانِ خدا تک خدا کے دین کا پیغام پہنچائے۔ دعوت کا یہ کام صبر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ دعوتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا پائی جائے۔ مدعو سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس قسم کی معتدل فضا پیدا کرے گا۔ اس لیے داعی کو یہ ذمہ داری لینی پڑتی ہے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو نظر انداز کرے، تا کہ دعوت کا ماحول بگڑنے نہ پائے۔ اور تلخیوں کو نظر انداز کرنے کا یہ معاملہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی صبر کی سطح پر جینے کے لیے تیار ہو۔ روزہ کا مہینہ اسی صبر کی تربیت کا مہینہ ہے۔ اور صبر وہ اعلیٰ انسانی صفت ہے جس میں دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ روزہ قربانی کا عمل ہے اور قربانی کا عمل سب سے زیادہ اعلیٰ عمل ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں روزہ کی اس امتیازی خصوصیت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ، الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ (صحیح مسلم، حدیث

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader