Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد فوراً آپ نے حکمرانوں کے نام دعوت نامے بھیجنے کا منصوبہ بنایا اور اس کی تعمیل فرمائی۔ جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر کے بغیر کوئی ثبت عمل ممکن نہیں۔ اگر آپ کو داعی بننا ہے تو مدعو کے ساتھ تمام جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا ہوگا۔ اگر آپ کو متواضع اخلاق اختیار کرنا ہے تو اپنے سینہ کو تکبر کا قبرستان بنانا ہوگا۔ اگر آپ کو لوگوں کا خیر خواہ بننا ہے تو اپنے اندر اٹھنے والے حسد کے جذبات کو دبانا ہوگا۔ اگر آپ لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر پیدا ہونے والے انتقامی جذبات کو ذبح کرنا ہوگا۔ اور یہ سب وہ چیزیں ہیں جو صبر سے تعلق رکھتی ہیں۔ صبر کے بغیر ان کا حصول ممکن نہیں۔ روزہ صبر کی تربیت محدث بیہقی (وفات 1066ء) نے ’’شعب الایمان‘‘ میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت رمضان سے متعلق نقل کی ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر میں خطبہ دیا۔ اس میں آپ نے ماہِ رمضان کا تذکرہ کیا اور فرمایا: وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 3608)۔ یعنی، وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ صبر کی تربیت ہے اور صبر تمام کامیابیوں کا ذریعہ۔ دین میں سب سے پہلی چیز ایمان ہے۔ ایمان کیا ہے۔ ایمان غیبی حقیقت کی دریافت ہے۔ آدمی اپنے آپ کو ظاہری فائدوں اور مادی رونقوں سے اوپر اٹھاتا ہے، تب اس کو باطنی گہرائیوں کا ادراک ہوتا ہے۔ یہ ایک صابرانہ عمل ہے۔ اس صابرانہ عمل کے بغیر کسی کو ایمان کی اعلیٰ معرفت حاصل نہیں ہوتی۔ اس دنیا میں کوئی شخص ذہنی برداشت سے گزر کر ہی ذہنی یافت تک پہنچتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page