روزہ صبر کی تربیت
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر کی عبادت نماز کا وقت ہوا اور مسجد سے اذان کی آواز آئے تو ایک مسلمان خوش ہوتا ہے کہ اس کے لیے وقت آگیا کہ وہ نماز ادا کرے اور عبادت کا ثواب حاصل کرے ۔ اسی طرح جب رمضان کا نیا چاند آسمان پر نظر آتا ہے تو مسلمان خوش ہوتے ہیں کہ رمضان کے مہینہ کی آمد نے ان کو موقع دیا کہ وہ روزہ رکھ کر اپنے آپ کو اس کے ثواب کا مستحق بنائیں۔ اسی طرح ایک اور عظیم عبادت ہے جس کو شریعت میں صبر کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا (39:10)۔ حدیث میں ہے کہ صبر سے زیادہ بہتر عطیہ کبھی کسی کو نہیں دیا گیا : وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 1644)۔ صبر ایک عبادت ہے، بلکہ تمام عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت۔ عصر کی نماز کا ثواب بہت زیادہ ہے، مگر آپ عصر کی نماز دوپہر کے وقت نہیں پڑھ سکتے۔ اسی طرح رمضان کے روزہ کے لیے غیر معمولی ثواب کی خوش خبری دی گئی ہے۔ مگر یہ ثواب محرم کے مہینہ میں روزہ رکھ کر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی معاملہ صبر کی عبادت کا بھی ہے۔ صبر کی عبادت صبر کے حالات میں انجام دی جاسکتی ہے، غیر صابرانہ حالات میں صبر کی عبادت کی انجام دہی ممکن نہیں۔ صبر کا موقع کب پیش آتا ہے۔ صبر کا موقع اس وقت پیش آتا ہے جب کہ آپ کے ساتھ اشتعال انگیزی کی جائے۔ آپ کے ساتھ برا برتاؤ کیا جائے ۔ جب کوئی شخص ایسی بات کہے جس سے آپ کی انا پر چوٹ لگتی ہو۔ صبر پر عمل کرنے کا موقع ہمیشہ مخالفانہ حالات میں ہوتا ہے، نہ کہ موافقانہ حالات میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader