تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر کے حالات پیش آنے پر اکثر لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ منفی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ شعوری طور پر جانیں کہ یہ تو ان کے لیے صبر کی عبادت کا موقع ہے تو وہ صبر کے وقت کا اسی طرح استقبال کریں جس طرح وہ نماز اور روزہ کے وقت کا استقبال کرتے ہیں۔ صبر کا موقع عبادت کا موقع ہے۔ ایسا موقع پیش آنے پر آدمی کو یقین کرنا چاہیے کہ وہ وقت آگیا جب کہ عبادتِ عظیم کا ثبوت دے کر وہ ثوابِ عظیم کا مستحق بن جائے۔ صبر اور اعراض مکہ کے زمانہ قیام میں صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم کو اجازت دیجیے کہ ہم اسلام کے دشمنوں کے خلاف اقدام کریں۔ آپ نے فرمایا کہ صبر کرو۔ غزوہ احزاب میں آپ نے خندق کھود کر اپنے اور دشمنوں کے درمیان آڑ قائم کر دی، تاکہ دونوں فریقوں میں جنگ نہ ہونے پائے۔ مکہ کے سفر میں بعض مسلمانوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور کہا تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے۔ ہو اس قسم کے واقعات بتاتے ہیں کہ عمل کسی اندھا دھند کارروائی کا نام نہیں۔ عمل کا تعلق تمام تر حالات سے ہے۔ حالات کے مطابق کبھی ایک چیز مفید ہوتی ہے اور کبھی وہی چیز غیر مفید بن جاتی ہے۔ اس دنیا میں کبھی ضروری ہوتا ہے کہ آدمی بولے اور کبھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ چپ ہو جائے۔ کبھی یہ مطلوب ہوتا ہے کہ آدمی مقابلہ کرے اور کبھی یہ مطلوب ہو جاتا ہے کہ آدمی مقابلہ کے میدان سے اپنے آپ کو ہٹا دے۔ موجودہ حالات مسلمانوں کے لیے حد درجہ نازک حالات ہیں۔ یہ مسلمانوں کے لیے جہاد کا وقت نہیں، بلکہ صبر کا وقت ہے۔ آج انہیں مقابلہ نہیں کرنا ہے، بلکہ اعراض کرنا ہے۔ اس صبر اور اعراض کا مطلب بزدلی نہیں، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ وقفہ تعمیر حاصل کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader