تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کی ضرر رسانی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ مخالف کی ضرر رسانی کا ارادہ اس وقت کامیاب ہوتا ہے، جب کہ فریق ثانی بھی اپنی نادانی یا سادہ لوحی سے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کر بیٹھے۔ فریق ثانی اگر ”دوسرا ہاتھ“ بننے سے رک جائے تو دشمن کی مخالفانہ تالی بھی بجنے والی نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اہلِ اسلام کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کو اہل اسلام سے سخت بغض اور عداوت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ: وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120)۔ یعنی، اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اللہ نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اس آیت کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ دشمن کی سازش صرف 50 فی صد تک کارگر ہے۔ وہ اپنی تکمیل تک صرف اس وقت پہنچتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنی کسی غلطی سے اس کے منصوبہ کا بقیہ 50 فی صد حصہ پورا کر دے۔ صبر و تقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ دشمن کو اس کے منصوبہ کا یہ بقیہ نصف حصہ حاصل نہ ہو۔ جب ایسا ہوگا تو اس کی مخالفانہ تدبیر لازمی طور پر بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی۔ اس قانون کے تحت اللہ تعالیٰ نے آپ کے معاملہ کو خود آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ صبر و توکل وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (41-42: 16)۔ یعنی، اور جن لوگوں نے اللہ کے لیے اپنا وطن چھوڑا، بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا، ہم ان کو دنیا میں ضرور اچھا ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے، کاش وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader