تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان عین اپنی پیدائشی ساخت کے مطابق، اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ کسی کے خلاف زیادتی کرنے کے لیے جواز (justification) چاہتا ہے۔ جب آپ کسی کی اشتعال انگیزی پر اشتعل ہوں تو گو یا آپ اس کو یہ جواز دے رہے ہیں کہ وہ آپ کے خلاف زیادتی کرے۔ لیکن جب آپ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں تو گویا آپ نے اس سے زیادتی کرنے کا جواز چھین لیا۔ یہ دوسرا رویہ مومن کے حق میں ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب آپ یہ دوسرا رویہ اختیار کریں تو اس کے بعد آپ اپنے حریف کی فطرت کو اپنا وکیل بنا لیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ حریف کے اندر اپنا ایک حامی کھڑا کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد آدمی خود اپنی اندرونی کیفیت کے اعتبار سے مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ آپ کے خلاف زیادتی کرنے سے باز رہے۔ اور جو آدمی خود اپنے خلاف شکست کھا جائے، وہ کوئی ظالمانہ اقدام کرنے کے لیے اسی طرح نا اہل ہو جاتا ہے، جس طرح ایک غبارہ ہوا نکلنے کے بعد اڑنے کے لیے۔ صبر و تقویٰ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز ہم نے جوڑا جوڑا پیدا کی ہے (51:49)۔ یہ فطرت کا ایک آفاقی اصول ہے۔ یہاں جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، وہ دو چیزوں کے تعامل سے رونما ہوتا ہے۔ کوئی بھی چیز تنہا اس دنیا میں کوئی واقعہ یا نتیجہ ظاہر نہیں کر سکتی۔ اس اصول کا تعلق اجتماعی زندگی سے بھی ہے۔ اسی کو ایک پرانی مثل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ایک آدمی اپنا ہاتھ فضا میں ہلا تا رہے تو اس سے تالی نہیں بجے گی۔ تالی بجنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا ہاتھ اس سے ٹکرائے۔ جب تک دوسرا ہاتھ نہ اٹھے تالی کا بجنا بھی رکا رہے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader