قرآن کی ہدایت
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ہدایت قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم لوگ صبر کا طریقہ اختیار کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ ان سب کا احاطه کیے ہوئے ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120)۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ صبر اور تقویٰ کے ذریعہ شرپسندوں کے شر سے اور فاجروں کی سازش سے اپنے آپ کو بچائیں: يُرْشِدُهُمْ تَعَالَى إِلَى السَّلَامَةِ مِنْ شَرِّ الْأَشْرَارِ وَكَيْدِ الْفُجَّارِ بِاسْتِعْمَالِ الصَّبْرِ وَالتَّقْوَى ( تفسیر ابن کثیر ، جلد 2 ، صفحه (94)۔ صفوۃ التفاسیر میں ہے کہ اگر تم نے ان کی ایذا پر صبر کیا اور اپنے اقوال اور اعمال میں تم اللہ سے ڈرے تو ان کی سازش اور ان کی تدبیر تم کو کچھ نقصان نہ پہنچائے گی۔ پس اللہ نے ان کے ضرر کو ختم کرنے کے لیے صبر اور تقویٰ کی شرط لگائی: أي إن صبرتم على أذاهم واتقيتم الله في أقوالكم وأعمالكم لا يضركم مكرهم وكيدهم، فشرط تعالى نفي ضررهم بالصبر والتقوى ( صفوۃ التفاسیر ، جلد 1، صفحه (205)۔ ہندوستان میں فرقہ پرستوں کے جلوس اور ان کے دل آزار نعروں کے سلسلہ میں صبر اور تقویٰ کا انطباق کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مسلمان ان کی اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں ۔ وہ ان کی دل آزاری کو یک طرفہ طور پر برداشت کر لیں۔ وہ رد عمل کا اظہار کرنے کے بجائے خاموشی کا رویہ اختیار کریں۔ وہ ہمیشہ صبر کے رویہ پر قائم رہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی حال میں بھی تقویٰ کی روش نہ چھوڑیں۔ ایسے مواقع پر دنیوی انجام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader