Urdu book · تعمیرِ شخصیت

قرآن کی ہدایت

Urdu book, p. 243

By Maulana Wahiduddin Khan

سے زیادہ اُخروی انجام کو وہ اپنے سامنے رکھیں۔ وہ قوم پرستی کے بجائے اصول پسندی کا انداز اختیار کریں۔ فریق ثانی کی دشمنی کے باوجود اس کے ساتھ بے انصافی نہ کریں۔ وہ جو کچھ کریں، یہ سمجھ کر کریں کہ ان کو اللہ کے یہاں اس کا جواب دینا ہے۔ وہ اللہ کے معاملہ میں حساس اور انسانوں کے معاملہ میں غیرحساس بن جائیں۔ مسلمان اگر اس طرح صبر و تقویٰ کا طریقہ اختیار کریں تو یقینی طور پر مخالفین کی ہر سازش بے اثر ہو جائے گی۔ ہر مخالفانہ تدبیر ان کے حق میں ناکام ثابت ہوگی۔ مذکورہ آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ (120: 3)۔ یعنی، اللہ ان کی سرگرمیوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ فقرہ بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے شر پسندوں کے شر سے بچاؤ کے لیے صبر و تقویٰ کے جس طریقہ کی تعلیم دی ہے، وہ ایک ایسا طریقہ ہے جو معاملہ کے اوپر پوری طرح حاوی ہے۔ وہ یقینی طور پر ایک بے خطا طریقہ ہے۔ وہ کبھی ناکام ہونے والا نہیں۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ وہ انسان کی سرشت اور اس کے مزاج سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس نے جو اصلاحی اور دفاعی تدبیر بتائی ہے، وہ اپنے علم کلی کے تحت بتائی ہے۔ اللہ کے لیے یہ ایک پوری طرح معلوم مسئلہ کا پوری طرح معلوم جواب ہے۔ یہ حل تمام متعلق پہلوؤں کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی بھی صورت حال ایسی نہیں جو اس کے دائرۂ اثر سے خارج ہو۔ ان خصوصیات نے اس حل کو ایک بے خطا حل بنا دیا ہے۔ تم جب بھی اس کو استعمال کرو گے، اس کا نتیجہ تمہارے حق میں ہی نکلے گا۔ کوئی بھی انسانی گروہ اس کے دائرہ سے باہر نہیں۔ شرانگیزی کی کوئی بھی آگ ایسی نہیں جو اس طریقہ کو کام میں لاکر بجھائی نہ جاسکتی ہو۔ اس تدبیر کے اندر ہر بم کو ناکارہ بنا دینے کی طاقت ہے، خواہ بظاہر وہ کیسا ہی خطر ناک بم کیوں نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page