Urdu book · تعمیرِ شخصیت

شکر ایک اعلیٰ عبادت

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

تھر لنگ شکر صرف اُس شخص کو ملتا ہے، جو خدا کے احسانات (blessings) پر مسلسل غور کرتا رہے۔ انسان کے اوپر خدا کے احسانات لامحدود ہیں۔ اس لیے جو آدمی اس پہلو سے غور و فکر کرتا رہے، وہ ہر وقت ایک نئے خدائی احسان کو دریافت کرے گا، وہ ہر وقت ایک نئے سبب شکر کا تجربہ کرے گا۔ اس کے یہ تجربات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس لیے اس کے اندر شکر خدا وندی کا احساس بھی مسلسل طور پر زندہ رہے گا۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے سوچا کہ انسان کی قوت سماعت بھی کیسی عجیب ہے کہ اس کے کان میں بے شمار قسم کی آوازیں آتی ہیں۔ وہ ہر آواز کو ممیز (differentiate) کر کے اس کو الگ سے پہچان لیتا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنے ایک ہاتھ کو حرکت دی اور بات کرنے کے لیے ریسیور کو اٹھایا۔ دوبارہ میں نے سوچا کہ میرے جسم میں بہت سے اعضا ہیں، لیکن میرے دماغ نے صرف ایک عضو (ہاتھ) کو متحرک کیا کہ وہ ریسیور کو اٹھائے۔ اس عمل میں آنکھ کا بھی ایک حصہ تھا، کیوں کہ اگر آنکھ اپنا عمل نہ کرتی تو مجھے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ ریسیور کہاں ہے۔ جب میں نے ٹیلی فون پر بات کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ٹیلی فون کے دوسری طرف جو آدمی ہے، وہ انگریزی زبان میں بول رہا ہے۔ میں اس کی بات کو پوری طرح سمجھ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ میری مادری زبان اردو ہے، اور دوسرے شخص کی زبان انگریزی۔ میں کسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پا تاہوں، جب کہ میں اس کو اردو الفاظ میں ڈھال لوں۔ میں نے سوچا کہ دماغ کیسی عجیب نعمت ہے۔ جو اپنے اندر یہ انوکھی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ انگریزی الفاظ کو فی الفور (instantly) اردو میں ڈھال دے۔ اور اس طرح متکلم کی بات کو بلا تاخیر میرے لیے قابل فہم بنا دے۔ اس طرح کی بہت سی باتیں اُس وقت میرے ذہن میں آتی رہیں۔ میں ایک طرف دور کے ایک شخص سے ٹیلی فون پر بات کر رہا تھا اور دوسری طرف، عین اُسی وقت میں خدا کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page