Urdu book · تعمیرِ شخصیت

شکر ایک اعلیٰ عبادت

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ اے لوگو! خدا کے شکر گزار بندے بنو۔ مثلاً میٹھے پانی کی ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَلَوْلاَ تَشْكُرُوْنَ (56:70)۔ یعنی، تم شکر کیوں نہیں کرتے۔ انسان سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے، وہ یہی شکر ہے۔ شیطان کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے۔ قرآن کے مطابق، آغاز حیات میں اُس نے خدا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو بہکاؤں گا، یہاں تک کہ تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا— وَلاَ تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ: And you will not find most of them grateful (7:17) قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کے بندوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو شکر کرنے والے ہیں: وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (34:13)۔ شکر کا مطلب اگر یہ ہو کہ آدمی زبان سے شکر کے الفاظ بولتا رہے، تو ایسے لوگ ہمیشہ بہت زیادہ رہے ہیں اور آج بھی وہ بہت زیادہ ہیں۔ ایسے لوگ بے شمار ہیں جو اپنی گفتگو کے دوران بار بار الحمد لله، اللہ کا شکر ہے اور اللہ کا فضل ہے، جیسے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں دنیا بظاہر شکر کرنے والوں سے بھری ہوئی ہے، پھر مذکورہ قرآنی بیان کا کیا مطلب ہے کہ لوگوں میں بہت کم ہیں جو شکر کرنے والے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ شکر کی دو قسمیں ہیں— لسانی شکر، اور قلبی شکر۔ لسانی شکر کو نارمل شکر، اور قلبی شکر کو تھرلنگ (thrilling) شکر کہہ سکتے ہیں۔ خدا کی خدائی شان کے مطابق، شکر صرف وہ ہے جو تھرلنگ شکر ہو۔ نارمل شکر صرف ایک لپ سروس (lip-service) ہے۔ اِس قسم کا شکر خدا کو مطلوب نہیں۔ اِسی کے ساتھ ضروری ہے کہ خدا کے لیے انسان کا شکر ایک اضافہ پذیر شکر ہو۔ جو شکر ایک حالت پر قائم ہو جائے، وہ ایک جامد شکر ہے۔ اور جامد شکر وہ شکر نہیں جو خدا کے نزدیک مطلوب شکر کی حیثیت رکھتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page