Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 259

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر کی صفت اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔ جو شخص صبر کرے، وہ بے پناہ شخصیت کا مالک بن جاتا ہے۔ تمام قوانینِ فطرت اس کے حق میں متحرک ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کے تحت وہ ایک ناقابلِ تسخیر ہستی بن جاتا ہے۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ردِ عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھائے۔ وہ ظالم کی بدخواہی کے جواب میں اس کے ساتھ خیر خواہی کرنا سکھاتا ہے۔ وہ بُرے عمل کا جواب بھلے عمل سے دینے کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ صابر آدمی ظالم کے ظلم پر اس کے خلاف بد دعا نہیں کرتا، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی ہدایت کی دعا مانگتا ہے۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اشتعال انگیزی کے وقت مشتعل ہو جائے اور عجلانہ کارروائی میں اپنی طاقت کو ضائع کرے۔ صبر آدمی کو بے پناہ حد تک طاقتور بنا دیتا ہے۔ وہ آدمی کی خفیہ صلاحیتوں کو جگاتا ہے۔ وہ آدمی کے چھپے ہوئے امکانات کو بیدار کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر منصوبہ بند کام کرنے کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ صبر آدمی کو معمولی انسان کے درجہ سے اٹھا کر غیر معمولی انسان کے درجہ میں پہنچاد دیتا ہے۔ صبر اسلامی تاریخ میں اسلام کی تاریخ وسیع تقسیم کے مطابق، تین قسم کے حالات سے گزری ہے — دعوت، خلافت، ملوکیت۔ دعوتی دور کی معیاری مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا 23 سالہ زمانہ ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جس کے مطالعہ سے دعوت کے آداب اور اس کے طریقے صحیح طور پر معلوم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد خلافت کا زمانہ آتا ہے، جو گویا صحیح معنی میں نائبیں رسول کا زمانہ ہے۔ یہ زمانہ حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ سے شروع ہوتا ہے اور حضرت علی ابن ابی طالب پر ختم ہوتا ہے۔ اس کے بعد، مورخینِ اسلام کے مطابق، ملوکیت کا دور ہے۔ یہ زمانہ حضرت امیر معاویہ سے شروع ہوا اور آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page