صبر کی طاقت
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
مایوسی میں پڑنے کے بجائے امید کے پہلوؤں پر غور کرتا ہے۔ وہ کھوئے ہوئے کام کرنے کے بجائے یہ چاہتا ہے کہ ملے ہوئے کو استعمال کرے۔ جو لوگ زک (نقصان) اٹھانے کے بعد اس طرح صبر کے طریقہ کو اختیار کریں وہ گویا اپنے آپ کو حالات سے اوپر اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جاتے ہیں، جہاں ان کے اندر چھپے ہوئے امکانات جاگیں۔ ان کی شخصیت مزید طاقت کے ساتھ ابھر آئے۔ غیر صابر آدمی نقصان کو نقصان کے روپ میں دیکھتا ہے۔ صابر آدمی نقصان کو اپنے لیے چیلنج سمجھتا ہے۔ وہ حالات کا مقابلہ کر کے اپنے آپ کو آگے لے جانا چاہتا ہے۔ اور جو لوگ نقصان کا اس طرح استقبال کریں، وہ ہمیشہ آگے بڑھتے ہیں۔ وہ اپنی ناکامی کو دوبارہ عظیم تر کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ جب ایسا ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے اوپر ظلم کرے، اور مظلوم گروہ کبھی اس کے جواب میں ظالمانہ کارروائی کرنے لگے تو دونوں گروہ اخلاقی اعتبار سے برابر ہو گئے۔ ایسے دونوں گروہوں کو اللہ ان کی اپنی ذات کے حوالے کر دیتا ہے۔ ان میں سے کسی کو کبھی اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کو اپنے ظلم اور سرکشی کا نشانہ بنائے، مگر مظلوم گروہ جوابی کارروائی کرنے کے بجائے اس پر صبر کر لے، تو خدا صابر گروہ کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ وہ مظلوم گروہ کی مدد کر کے اس کو ظالم گروہ کے اوپر فاتح بنا دیتا ہے۔ مظلوم گروہ کو یہ فائدہ تمام تر صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ صبر کوئی بے عملی کی حالت نہیں، صبر سب سے بڑا عمل ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر اٹھتے ہوئے جذبات کو منفی رخ سے ہٹا کر مثبت رخ کی طرف پھیر دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader