تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ اول حضرت ابوبکر کے ایک سرکاری فرمان کو ایک بار حضرت عمر نے بر سر عام پھاڑ کر پھینک دیا۔ مگر خلیفہ اول نے اس کو برا نہیں مانا اور نہ اس بنا پر ان کے دل میں عمر فاروق کی اہمیت کم ہوئی (ادب الدنیا و الدین للماوردی، صفحہ 163)۔ حضرت عمر فاروق جب خلیفہ ہوئے تو بار بار ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان پر سخت الفاظ میں تنقید میں کیں۔ مگر حضرت عمر نے کبھی ان کے خلاف منفی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ مثلاً ایک بار تقریر کے دوران بر سر عام ایک شخص نے کہا کہ اگر ہم تمہارے اندر ٹیرھ دیکھیں گے تو ہم اسی طرح سیدھا کریں گے، جس طرح تیر کو سیدھا کرتے ہیں۔ خلیفہ ثانی اس پر غصہ نہیں ہوئے، بلکہ یہ کہا کہ اس خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ایک ایسی قوم میں بنایا کہ اگر میرے اندر انحراف پیدا ہو تو وہ مجھے سیدھا کر دے (الزہد و الرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر 512)۔ خلیفہ کے اندر تنقید کو برداشت کرنے کا یہ مادہ انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اس کے بغیر وہ ملک اور قوم کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔ مگر یہ اعلی صفت کسی شخص کے اندر اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ اس میں صبر کا مادہ موجود ہو۔ صبر کسی خلیفہ کو عدل پر قائم رکھتا ہے، اگر اس کے اندر صبر نہ ہو تو کوئی بھی چیز اس کو ظلم کی راہ پر جانے سے روک نہیں سکتی۔ ملوکیت کا دور اسی طرح ملوکیت کے دور میں بھی صبر انتہائی طور پر ضروری ہے۔ زندگی میں اتار چڑھاؤ کا آنا لازمی ہے، اسی طرح ملوکیت کا زمانہ بھی ضرور آ کر رہتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر ملوکیت کے نظام پر صبر نہ کیا جائے تو مسلم معاشرہ میں زبردست خلفشار بر پا ہوگا۔ امت دو طبقوں میں بٹ جائے گی۔ ایک، ملوک اور ان کے ساتھی۔ دوسرے، عوام اور ان کے رہنما۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف مسلح اور غیر مسلح لڑائی شروع کر دیں گے، جس کا انجام دو طرفہ بربادی کے سوا اور کسی شکل میں نہیں نکلے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader