تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے حالات میں صبر یہ کارنامہ انجام دیتا ہے کہ لوگ حکمرانوں سے اعراض کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے دوسرے تعمیری اور اصلاحی میدانوں میں اپنے آپ کو مصروف کر لیں۔ اس طرح نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی طاقت ضائع ہونے سے بچ کر اپنا مفید استعمال پالیتی ہے، بلکہ اگر یہ غیر سیاسی اصلاحی کوششیں زیادہ بڑے پیمانہ پر صالح معاشرہ کی تشکیل کر سکیں تو بالواسطہ طور پر حکومت کا ادارہ بھی ضرور متاثر ہوتا ہے۔ وہ سیاسی مقصد جو براہ راست عمل کے ذریعہ حاصل نہیں ہوا تھا، وہ بالواسطہ عمل کے ذریعہ حاصل کر لیا جاتا ہے۔ صبر، خواہ وہ دعوت کے مرحلہ میں ہو یا خلافت اور ملوکیت کے مرحلہ میں، ہمیشہ ناگزیر طور پر ضروری ہوتا ہے۔ ہر قسم کی ترقی اور کامیابی صبر کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ صبر اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی ناممکن کے پیچھے نہیں دوڑے گا، بلکہ ممکن کے دائرہ میں اپنی کوششیں صرف کرے گا۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ الاقدم فالاقدم کے اصول پر عمل کرے، وہ منصوبہ بند انداز میں اپنا تمام کام کرنے لگے۔ دورِ ملوکیت میں صبر کی اہمیت کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ”راہِ عمل“ میں درج ہیں۔ اشتعال کے بغیر اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے: لَا تَعْتَمِدْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ حَتَّى تُجَرِّبَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ (التبر المسبوك في نصيحة الملوك للغزالی، صفحہ 24)۔ یعنی، کسی آدمی کے حسن اخلاق پر بھروسہ مت کرو جب تک غصہ کے وقت اس کا تجربہ نہ کرلو۔ جب غصہ دلانے والی بات کی جائے تو اس کے جواب کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی بپھر اٹھے اور ناقدین پر لعن طعن کرنے لگے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ناقد کی بات کو بالکل ٹھنڈے ذہن سے سنا جائے ۔ اس کی بات کے غیر متعلق پہلوؤں کو نظر انداز کرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader