Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

ارشاد ہوا ہے: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ (31:31)۔ یعنی، اس نشانیاں ہیں ہر اُس انسان کے لیے جو بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے والا ہو۔ اس قسم کی آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قانون الہی کے مطابق، اعلیٰ شکر کی توفیق صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو بہت زیادہ صبر کرتے ہوئے اس دنیا میں زندگی گزاریں۔ ایسا کیوں ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اس بنا پر یہاں مختلف قسم کی برائیاں (evils) پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ صورتِ حال خدا کے قانون کی بنا پر ہے، انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ اس معاملے میں انسان کو ایک ہی اختیار (option) حاصل ہے، وہ یہ کہ وہ صبر و برداشت سے کام لے، تاکہ وہ دنیا میں نارمل طریقے سے رہ سکے۔ شکر ایک ایسا جذبہ ہے جو صرف ایک ایسے مائنڈ میں پیدا ہوتا ہے جو کامل طور پر مثبت (positive) ہو، کسی بھی قسم کا منفی فکر (negative thought) اس کے ذہن میں موجود نہ ہو۔ مثبت ذہن کا آدمی ہی خدا کی توفیق سے اعلیٰ شکر ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ صبر دراصل شکر کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، وہ شکر جیسی اعلیٰ عبادت بھی انجام نہیں دے سکتا۔ انسان اور نظام ربوبیت انسان ایک مکمل وجود ہے، مگر اس کے ساتھ وہ مکمل طور پر خارجی سہارے کا محتاج وجود ہے۔ یعنی، انسان کو اپنے وجود کی تکمیل کے لیے ہر لمحہ ایک مددگار نظام درکار ہے۔ اس نظام کے بغیر وہ اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتا۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَاللَّهُ الْغَنِيُّ وَأَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ (47:38)۔ یعنی، اور اللہ بے نیاز ہے، تم محتاج ہو۔ اس مددگار نظام کا نام نظامِ ربوبیت ہے، یعنی رب العالمین کا قائم کردہ نظام۔ مثلاً انسان کے اندر نظام ہضم (digestive system) ہے، مگر غذائی اشیا کی سپلائی باہر سے ہوتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page