Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ انسان کے اندر نظام تنفس (respiratory system) ہے، مگر آکسیجن اس کو خدا کے کارخانے سے ملتا ہے۔ انسان کے پاس نظام بصارت ہے، مگر وہ روشنی خدا کی طرف سے آتی ہے جس کے بغیر وہ دیکھ نہیں سکتا۔ انسان کے پاس نظام سماعت ہے، مگر اُس ہوا کو چلانے والا خدا ہے جس کے ذریعہ انسان کے کانوں تک آواز پہنچتی ہے، وغیرہ۔ انسانی وجود کے اندر اس قسم کے بہت سے نظام ہیں، مگر ہر نظام اپنی کارکردگی کے لیے خارجی مدد کا محتاج ہے۔ یہ مختلف قسم کے خارجی نظام جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ ان کے مجموعہ کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ اگر سسٹم موجود نہ ہو تو انسان کا پورا وجود بے معنی ہو جائے گا۔ مچھلی پانی کے باہر مسلسل تڑپتی رہتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اس کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے اور مچھلی صرف پانی سے آکسیجن لے سکتی ہے۔ مچھلی کی یہ مثال ہر آدمی کے لیے بہت زیادہ سبق آموز ہے۔ ہر وقت انسان کو سوچنا چاہیے کہ خدا! اگر لائف سپورٹ سسٹم یا بالفاظ دیگر اپنے نظام ربوبیت کو واپس لے لے تو میرا کیا حال ہوگا۔ قرآن میں ہے: بتاؤ، اگر اللہ قیامت کے دن تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمھارے لیے روشنی لے آئے۔ تو کیا تم لوگ سنتے نہیں (28:71)۔ یہ سوچ اگر آدمی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائے تو یہی ایک بات اس کے اندر تمام اعلیٰ انسانی قدروں (human values) کو پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گی۔ مثلاً تواضع (modesty)، شکر، عفو و درگزر، خیرخواہی، انصاف، وغیرہ۔ اسمائے حسنیٰ اسمائے حسنیٰ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے یہ تمام نام انسان کی نسبت سے خدا کا تعارف ہیں۔ انسان فطری طور پر اپنے سے ایک برتر ہستی کو چاہتا ہے۔ نفسیاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی (seeker by birth) مخلوق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page