خاموش تدبیر
Urdu book, p. 289
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھ رہا ہوں، آخر کیا بات ہے۔“ اس نے پوچھا۔ عیسائی دوست اچانک سنجیدہ ہو گئے۔ انھوں نے کہا: I am in hurry, but God isn't. میں جلدی چاہتا ہوں، مگر خدا جلدی نہیں چاہتا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے صحن میں ایک مرجھائے ہوئے آم کے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: میں نے اس کو بڑی امیدوں کے ساتھ پچھلے ہفتہ لگایا تھا۔ مگر اب وہ سوکھ کر ختم ہو چکا ہے۔ ”یہ درخت تو کافی بڑا ہے، پھر ایک ہفتہ پہلے کیسے آپ نے اس کو لگایا تھا۔“ آدمی نے پوچھا۔ ”یہی تو اصل بات ہے۔“ عیسائی دوست نے کہا۔ ”میں نے چاہا کہ میں اچانک ایک بڑا درخت اپنے یہاں کھڑا کر دوں۔ مگر خدا کی اس دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ میں نے آم کا چھوٹا پودا لگانے کے بجائے یہ چاہا کہ پانچ سال کا درخت لا کر اپنے صحن میں لگاؤں اور اس طرح پانچ سال کا سفر ایک دن میں طے کر لوں۔ میں نے درخت تو کہیں نہ کہیں سے لا کر لگا لیا، مگر وہ اگلے ہی دن سوکھ گیا۔ اور اب اس کی جو صورت ہے وہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔“ اس کے بعد عیسائی دوست نے کہا: اس دنیا میں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے خدا کا ایک قانون ہے۔ ہم اس قانون کی پیروی کر کے ہی اس چیز کو اپنے لیے وجود میں لا سکتے ہیں۔ اگر ہم قدرت کے اصول کی پیروی نہ کریں اور اپنی خواہشوں پر چلنے لگیں تو ہمارے حصہ میں ”سوکھا درخت“ آئے گا، نہ کہ ”ہرا بھرا باغ“۔ لکڑی کی ایک کشتی کی تاریخ اگر چھوٹے پودے سے شروع کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر کشتی والا انتظار کرتا ہے کہ قدرت ایک درخت اگائے۔ زمین و آسمان کے تمام انتظامات اس کو پروان چڑھانے کے لیے وقف ہوں۔ یہ کام سو برس تک ہوتا رہے۔ یہاں تک کہ جب مسلسل عمل کے نتیجہ میں ننھا پودا پختہ درخت کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، اس وقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader