خاموش تدبیر
Urdu book, p. 288
By Maulana Wahiduddin Khan
چیز پر ٹک کر نہیں رہتا ہو، وہ ہر میدان میں نا کام ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مستقل مزاجی سے انسان کو کامیابی ملتی ہے۔ کیوں کہ فطری قانون کے مطابق، اس دنیا میں کامیابی چند لمحوں کی محنت سے حاصل نہیں ہوتی، اس کے لیے صبر کے ساتھ لگا تار کوشش کرنا پڑتا ہے ۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم وسٹن چرچل (1965-1874) کا ایک قول ہے— مستقل کوشش، نہ کہ قوت یا عقل، ہمارے پونشل کو ایکچول بنانے کی چابی ہے: Continuous effort, not strength or intelligence, is the key to unlocking our potential. یہ صرف دنیوی امور کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ دینی امور میں بھی یہی مستقل کوشش پسندیدہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل اللہ کو سب سے محبوب ہے (أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟)، آپ نے کہا کہ جو مسلسل کیا جائے اگرچہ کم ہو: أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 782)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی چیز کو پانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ صرف آپ کا معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ اس میں دوسری چیزوں کو پہنچ کرنے کا معاملہ بھی شامل ہو جاتا ہے، خواہ وہ دوسرے انسانوں کا معاملہ ہو یا کوئی اور چیز۔ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو پہنچ کرتے ہوئے انسان کی کوشش کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے انسان کو اس کی کوشش کا نتیجہ فوراً نہیں مل پاتا، اس کو مسلسل کوشش کرنا پڑتا ہے۔ اس کو جلد بازی کے بجائے تدر یج کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ خدا جلدی نہیں چاہتا ایک شخص اپنے عیسائی دوست سے ملنے گیا۔ جب وہ دوست کے یہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے سامنے بے تابی کے ساتھ ٹہل رہے ہیں۔ ”آج میں آپ کو پریشان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader