خاموش تدبیر
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کو پختہ (mature) بناتا ہے۔ چیلنج آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو انفولڈ (unfold) کرے۔ عام طور پر عورتوں اور مردوں کا حال یہ ہے کہ چیلنج پیش آنے کی صورت میں وہ منفی ردِ عمل (negative reaction) کا طریقہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اِس طرح کے مواقع پر منفی ردِ عمل، ڈی ریلمینٹ (derailment) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کسی عورت یا مرد کی زندگی غلط رخ پر چل پڑتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ اِسی میں کنڈیشنڈ (conditioned) ہو جاتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اِسی منفی مزاج میں جیتے ہیں اور اِسی منفی مزاج میں مر جاتے ہیں۔ یہ کسی عورت یا مرد کی بدترین ناکامی ہے۔ اِس دنیا میں ہر شخص سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اندر ایک مثبت شخصیت (positive personality) کی تشکیل کرے۔ مگر انسان اللہ کے تخلیقی منصوبے کو نہ سمجھنے کی بنا پر یہ کرتا ہے کہ وہ چیلنج کو ایک برائی (evil) سمجھ لیتا ہے۔ وہ دنیا سے اُس چیز کو حاصل کیے بغیر چلا جاتا ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے خالق نے اُم کو اِس دنیا میں بھیجا تھا۔ سوال حال ہی میں ہوئے بہار شریف میں فرقہ وارانہ ہندو مسلم فسادات کی خاص وجہ یہ تھی کہ ہندو ”درگا“ کی مورتی لے کر مسلم محلہ میں آگئے اور اشتعال انگیز نعرہ لگانے لگے کہ مسلمان ہندوستان کے غدار ہیں۔ مسلمان پاکستانی ایجنٹ ہیں، ان کو ہندوستان سے مار بھگاؤ۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ (شاہ فیصل، وياؤ، نالندہ) جواب اس سوال کا جواب پیشگی طور پر خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق نے دے دیا ہے۔ وہ اُنھیں کے الفاظ میں یہ ہے: أَمِيتُوبِالْبَاطِلِ بِا لصَّمْتِ عَنْهُ ( دیکھیے: حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 55)۔ یعنی، باطل کو ہلاک کرو اس سے چپ رہ کر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader