Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ قسم کے مسائل کا بہترین حل یہ ہے کہ اُن کے بارے میں خاموشی اور اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ اعراض سے یہ مسئلہ صرف دو منٹ کے نعرہ پر ختم ہو جاتا ہے اور جب مسلمان اس طرح کے مواقع پر خاموشی کے بجائے جوابی اقدام کا طریقہ اختیار کریں تو غیر ضروری طور پر وہ برا انجام سامنے آجاتا ہے جو بہار شریف اور بھاگل پور جیسے مقامات پر پیش آیا۔ سوال قرآن میں آیا ہے کہ تم صبر کرو جس طرح اولوالعزم انبیاء نے صبر کیا اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو (46:35)_ اس کا مطلب کیا ہے ؟ اس کی تفصیل فرمائیں (اسجد نواز صابری ، ململ، بہار)۔ جواب عزم کا مطلب پختہ ارادہ (determination) ہے۔ یعنی ، اپنے مقصد پر پوری طرح جمے رہنا ، کسی بھی چیز کا اثر لے کر اپنے مقصد سے منحرف نہ ہونا ۔ اس آیت میں داعی کا کردار بتایا گیا ہے۔ داعی سے جو کردار مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے خواہ کتنا ہی زیادہ منفی رد عمل کا اظہار ہو مگر داعی اپنے مثبت رویہ پر قائم رہے۔ مدعو اگر اشتعال دلائے تب بھی داعی مشتعل نہ ہو۔ مدعو اگر قابل نفرت سلوک کرے تب بھی داعی اُس کا خیر خواہ بنا رہے۔ مدعو اگر نزاع چھیڑے تب بھی داعی اُس سے اعراض کرتے ہوئے لڑائی کی نوبت نہ آنے دے۔ یہی عزیمت ہے اور دعوت کا کام اِس عزیمت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ سوال الرسالہ میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ظلم و زیادتی کے خلاف مسلمانوں کو صبر کی روش اختیار کرنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ظلم و زیادتی پر صبر کرنا تو ظلم و زیادتی کو بڑھاوا دینا ہے۔ اس شبہ کا کیا جواب ہے؟ (ندیم احمد سنابلی ، دہلی)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page