Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 314

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب آپ نے جس تجربے کا ذکر کیا ہے، اُس کا تعلق آخرت سے یا جنت سے نہیں۔ اس کا تعلق صرف دنیا کے بارے میں قانونِ فطرت سے ہے۔ موجودہ دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر حوصلہ مند (ambitious) پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اِس عارضی دنیا میں محدودیت (limitations) کا قانون ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک شخص کو اس کے اپنے حوصلے کی نسبت سے کم ملتا ہے۔ تاریخ میں کوئی بھی شخص ایسا پایا نہیں جاتا، جس نے اپنے حوصلے کے بقدر دنیا کو حاصل کیا ہو۔ اس حقیقت کی بنا پر اس دنیا میں انسان کے لیے دانش مندی یہ ہے کہ وہ حقیقت پسند بنے، یعنی زیادہ چاہے مگر کم پر راضی ہو جائے۔ موجودہ دنیا کا یہ قانون قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (2:155)۔ یعنی، اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ یہ آیت موجودہ دنیا کے مادی قانون کو بتا رہی ہے۔ اس دنیا میں ایسا ہوگا کہ یہاں انسان کو مختلف پہلوؤں سے نقصان کا تجربہ ہوگا۔ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں نقصان سے بچنا ممکن نہیں، نہ صالح لوگوں کے لیے، اور نہ غیر صالح لوگوں کے لیے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف ایک چوائس ہے، اور وہ صبر ہے۔ صبر کوئی بزدلی کی بات نہیں۔ صبر دانش مندی کی بات ہے۔ صبر کا مطلب ہے، اپنی زندگی کی منصوبہ بندی ملے ہوئے پر کرنا، اور جو نہیں ملا اُس کو خدا کی اسکیم آف تھنگس (scheme of things) کے خانے میں ڈال دینا۔ یعنی جو ملا اُس کو اپنا سمجھنا، اور جو نہیں ملا اُس کے بارے میں اس اصول پر راضی ہونا کہ وہ خدا کا فیصلہ تھا، اور خدا کے فیصلے کو کوئی بدل نہیں سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page