خاموش تدبیر
Urdu book, p. 313
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان بعض واقعات پر غیر ضروری طور پر مشتعل ہورہے ہیں، وہ غیر ضروری طور پر اُن واقعات پر بھڑک اُٹھتے ہیں۔ قرآن اور حدیث میں صبروتحمل پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، حتیٰ کہ نماز سے پہلے صبر کا حکم ہے: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَوةِ (2:45)۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ نماز تو دھوم سے پڑھتے ہیں، لیکن وہ صبر کو پوری طرح چھوڑے ہوئے ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمان خود اپنے رویے کو بدلیں ۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس معاملے میں مسلمان کیا کریں ، وہ ان واقعات کو روکیں یا وہ اُس کے لیے دعا کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کو خود اپنے آپ کو روکنا ہے اور خود اپنے لیے دعا کرنا ہے۔ کارٹون کا واقعہ یا قرآن کی بے حرمتی جیسی خبریں سن کر بھڑک اُٹھنا، یہی مسلمانوں کی اصل غلطی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ جب وہ ایسی کوئی خبر سنیں تو وہ فوراً متعلق افراد سے ملیں اور اُن کو اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیں۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں ہر انسان کو مصلحت امتحان کی بنا پر آزادی دی ہے۔ مذکورہ قسم کا کوئی واقعہ خدا کی دی ہوئی آزادی کا صرف ایک غلط استعمال ہوتا ہے۔ چوں کہ آپ آزادی کو ختم نہیں کر سکتے ، اس لیے اُس کے خلاف لڑنا بھی آپ کے لیے درست نہیں۔ آپ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ تبلیغ ونصیحت کے ذریعے اُس آدمی کی سوچ کو بدلیں ، اسلام کے صحیح تعارف کے ذریعے اُس کے ذہن کو درست کریں اور اس کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ سوال ایک صاحب اپنے بارے میں لکھتے ہیں : مزاج کاملیت پسند (Perfectionist) ہے ۔ جو جذباتی نقصان ہو گیا، دل آج تک اُسی میں پھنسا ہوا ہے۔ کچھ اسباب کی بنا پر معاشرے میں جو مل رہا ہے، وہ دل سے قبول تو نہیں۔ لیکن کیا صبر کر کے جو مل رہا ہے اُس پر گزارا کیا جائے ، یہ سوچ کر کہ جو ملا ہے وہ اسی دنیا تک ہے ۔ اور من پسند چیز آخرت میں ملے گی ۔ (ایک قاری الرسالہ، پاکستان)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader