Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اسمائے حسنیٰ

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں نہایت مناسب انداز میں اور نہایت وافر طور پر دنیا میں موجود ہیں۔ انسان فطری طور پر یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے جو ان تمام ضروری چیزوں کو اُس کے لیے مہیا کر رہا ہے، بغیر اس کے کہ وہ انسان سے اُس کی کوئی قیمت طلب کر رہا ہو۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنے اِس محسنِ اعلیٰ کے احسانات کا اعتراف کرے، وہ کامل اعتراف اور شکر کے جذبے سے اپنے آپ کو اُس کے آگے بچھا دے۔ یہاں اسمائے حسنیٰ میں اِس کورہ نمائی ملتی ہے۔ خدا کے ان ناموں میں سے ایک نام ’اَلرَّزَّاق‘ ہے۔ انسان جب خدا کو رُزّاق کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اچانک اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے اپنی طلب کا جواب پالیا۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو قرآن کی اِس آیت میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ (51:58)۔ یعنی، بے شک، اللہ ہی رزق دینے والا، زور آور، زبردست ہے۔ اسی طرح ہر انسان کی ایک اور ضرورت ہے۔ موجودہ دنیا جس میں انسان کو زندگی گزارنا ہے، وہ اِس انداز سے بنی ہے کہ کوئی انسان اِس کے اندر معیاری انداز میں نہیں رہ سکتا۔ اِسی طرح انسان کے اندر بہت سی خواہشیں اور تمنائیں ہیں۔ ان خواہشوں اور تمناؤں کے زیر اثر ہر آدمی بار بار غلطیاں کر بیٹھتا ہے۔ ان حالات میں ہر انسان یہ سوچتا ہے کہ کیسے وہ اپنی غلطیوں کے احساس سے اپنے آپ کو بچائے۔ کس طرح ایسا ہو کہ وہ اپنے آپ کو ایک پاکیزہ روح کا درجہ دے سکے۔ یہاں اسمائے حسنیٰ میں وہ اپنے لیے تسکین کا سامان پا لیتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، خدا کا ایک نام ’اَلغَفُورُ‘ ہے۔ غفور کے تصور میں انسان پوری طرح اپنے لیے ذہنی تسکین کا سامان پا لیتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت اِس معاملے میں انسان کی رہ نما ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ یعنی، کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک، اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page