اسمائے حسنیٰ
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے ایک ذاتِ اعلیٰ کا متلاشی ہے، ایک ایسی اعلیٰ اور برتر ذات جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے، جو اس کے جذبات اور احساسات کا مرکز و محور بن سکے۔ اسمائے حسنیٰ دراصل اسی سوال کا جواب ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کا مطلب ہے، صفاتِ حسنیٰ۔ خدا کی یہ صفات جو اسمائے حسنیٰ کے ذریعے بتائی گئی ہیں، وہ علی الاطلاق حیثیت سے خدا کے برتر کا تعارف نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان کی نسبت سے اُس کے مطلوب خدا کا تعارف ہیں۔ چنانچہ جب کوئی انسان ان اسمائے حسنیٰ کو اُن کی پوری معنویت کے ساتھ جان لیتا ہے تو اچانک اُس کو دریافت ہوتا ہے کہ وہ جس خدائے برتر کی تلاش میں تھا، اُس کا تعارف اُم کو اسمائے حسنیٰ کی صورت میں مل گیا۔ مثال کے طور پر اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام ’الغنیٰ‘ ہے۔ غنی کے لفظی معنیٰ بے نیاز کے ہیں، یعنی وہ ہستی جس کو دوسروں سے کچھ لینے کی ضرورت نہ ہو، لیکن اس کو یہ طاقت ہو کہ وہ دوسروں کی تمام حاجتوں کو پورا کر سکے۔ یہ احساس ہر انسان کے اندر، شعوری یا غیر شعوری طور پر، چھپا ہوا ہے۔ اس کے بعد جب انسان اسمائے حسنیٰ کے ذریعے یہ جانتا ہے کہ خدا کی ایک صفت اُس کا غنی ہونا ہے، تو فوراً ہی وہ جان لیتا ہے کہ وہ جس خدا کی تلاش میں تھا، اُس کو اُس نے یہاں دریافت کر لیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بتائی گئی ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (15: 35)۔ یعنی، اے لوگو، تم اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ تو بے نیاز ہے، تعریف والا ہے۔ اسی طرح ایک اور جذبہ، جو سارے انسانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ ہر انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی مخلوق ہے جو رزق کی محتاج ہے۔ رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں، جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ انسان ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بہت سی چیزوں کا ضرورت مند ہے — پانی غذا، ہوا، آکسیجن اور روشنی،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader