Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اعراض اور روادارِی

Urdu book, p. 320

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہتا ہے کہ اسے اس کا مطلوب آئیڈیل کی بنیاد پر حاصل ہو۔ اس بنا پر وہ ایسا کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو نتیجے کے اعتبار سے دیکھے۔ اس طرح مسئلہ کسی مزید دشواری کے بغیر بہ آسانی حل ہو جائے گا۔ اس دنیا میں اختلاف کے موقع پر آپشن دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر (lesser evil) اور بڑے شر (greater evil) کے درمیان ہوتا ہے۔ اسی کو دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خیر الشرین کہا ہے (العقد الفرید، جلد 2، صفحہ 110-109)، یعنی عقل مند وہ ہے، جو دو برائیوں (evils) میں سے کمتر برائی (شر) کو پہچانے۔ اگر آدمی چھوٹے شر پر راضی نہ ہو تو اس کے بعد اس کو جس چیز پر راضی ہونا پڑتا ہے، وہ بڑا شر ہے۔ اس حقیقت کو صحابی رسول عمیر بن حبیب بن خماشہ اس طرح بیان کیا ہے: جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والے چھوٹے شر پر راضی نہیں ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2258)۔ اختلاف کے وقت دانش مند آدمی کے لیے پہلا آپشن کیا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فریق ثانی کی شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اس سے صلح کر لی جائے۔ پیغمبر اسلام کی یہی سنت رہی ہے۔ اسی سنت کو قرآن میں حکمت کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو کتاب اور حکمت کے ساتھ بھیجا۔ کتاب سے مراد قرآن ہے، اور حکمت سے مراد وہی چیز ہے، جس کو پریکٹیکل وزڈم کہا جاتا ہے۔ پریکٹیکل وزڈم کی وجہ سے آپ کو ملنے والی چیز ابتدا میں بہ ظاہر کم نظر آتی ہے۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر بہت سے صحابہ کو لگا تھا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ آئیڈیل وزڈم نتیجے کے اعتبار سے بے فائدہ ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، پریکٹیکل وزڈم غیر ضروری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page