اعراض اور روادارِی
Urdu book, p. 321
By Maulana Wahiduddin Khan
نقصان سے بچا کر کامیابی کی منزل تک پہنچادیتی ہے ۔ پریکٹیکل وزڈم ہمیشہ آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ اس کو اسٹارٹنگ پوائنٹ مل جائے ۔ اسٹارٹنگ پوائنٹ سے آغاز کر کے آدمی زیادہ کو پاسکتا ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول پر مبنی تھی ۔ غلط فہمی یہ 13 مارچ 2002ء کا واقعہ ہے۔ نئی دہلی کے سینٹرل ایڈمنسٹریٹر ٹربیونل (کیٹ) آفس میں ڈاکٹر شمس الآفاق صاحب اپنے کام سے گئے ہوئے تھے۔ وہاں حسب معمول دوسرے بہت سے لوگ تھے۔ ایک آدمی ان کے سامنے تھا۔ ڈاکٹر صاحب آگے جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس آدمی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر اشارہ کیا کہ مجھے راستہ دے دو۔ آفس میں اپنے کام سے فارغ ہو کر جب وہ نکلے تو گیٹ کے باہر دو آدمی کھڑے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک وہی شخص تھا جس کی پیٹھ پر ڈاکٹر صاحب نے ہاتھ رکھا تھا۔ اور دوسرا اس کا ساتھی تھا۔ دونوں صورت سے جاہل معلوم ہوتے تھے۔ مذکورہ آدمی نے جیسے ہی ڈاکٹر صاحب کو دیکھا وہ اچانک بگڑ گیا۔ وہ نہایت اشتعال انگیز لہجہ میں ان کو برا بھلا کہنے لگا۔ حتیٰ کہ اس نے کہا کہ راجندر ، تم کیا سمجھتے ہو ، میں تم کو گولی مار دوں گا۔ ڈاکٹر شمس الآفاق صاحب اعراض کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اب تک بالکل خاموش تھے۔ جب اس آدمی نے راجندر کا نام لیا تو انہوں نے فوراً محسوس کیا کہ یہ غلط فہمی کا معاملہ ہے۔ ابھی وہ چپ ہی تھے کہ ان کے ساتھی مسٹر اشوک کمار نے کہا کہ بھائی ، تم کو غلط فہمی ہوئی ہے ، یہ تو ڈاکٹر شمس الآفاق ہیں۔ اور یہ فلاں سرکاری محکمہ میں افسر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ اس آدمی کو یقین نہیں آیا۔ شاید اس کے مفروضہ راجندر کی صورت ڈاکٹر صاحب سے کچھ ملتی جلتی تھی۔ اس کی طلب پر ڈاکٹر صاحب نے اپنی جیب سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader