ٹالرنس، فطرت کا اصول
Urdu book, p. 326
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ چنانچہ جنگلوں میں دیکھا گیا ہے کہ ایک طرف سے ہاتھی آرہا ہو اور دوسری طرف سے شیر گزر رہا ہو تو دونوں اپنا اپنا راستہ بدل کر دائیں اور بائیں سے نکل جاتے ہیں۔ اگر دونوں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ٹالرنس کا معاملہ نہ کریں تو دونوں آپس میں لڑنے لگیں، یہاں تک کہ دونوں لڑ کر تباہ ہو جائیں۔ شیر اور ہاتھی کو یہ طریقہ فطرت نے سکھایا ہے۔ اسی طرح انسان کے جسم میں فطرت نے ٹالرنس کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ میڈیکل سائنس میں اس کو حیاتیاتی ٹالرنس (biological tolerance) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایک جسم حیوانی کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک چیز سے برا اثر لیے بغیر اس سے ربط کو یا جسم میں اس چیز کے داخل کیے جانے کو برداشت کرے: The ability of an organism to endure contact with a substance, or its introduction into the body, without ill effects. (Encyclopædia Britannica X/31) جسم کی اسی صلاحیت پر امراض کے علاج کا پورا نظام قائم ہے۔ بیماری کے وقت جسم کے اندر ایسی دوائیں ڈالی جاتی ہیں جو مجموعی حیثیت سے جسم کے لیے مضر ہیں۔ مگر جسم خارجی چیزوں کے معاملہ میں اپنی ساری حساسیت کے باجود ایسی دواؤں کو برداشت کرتا ہے ۔ وہ ان کے ساتھ ٹالرنس کا معاملہ کرتا ہے ۔ اسی حیاتیاتی ٹالرنس کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ یہ دوائیں جسم میں داخل ہو کر اپنا اثر دکھائیں ۔ وہ جسم کے اعضاء پر برا اثر ڈالے بغیر اس کے بیمار عضو پر عمل کر کے اس کو اچھا کر سکیں۔ ٹالرنس کا یہی طریقہ انسانی سماج میں بھی مطلوب ہے۔ جنگل کے جانور جو کچھ اپنی جبلت (instinct) کے تحت کرتے ہیں، اور انسانی جسم جو کچھ اپنی فطرت کے تحت کرتا ہے۔ وہی انسان کو اپنے شعور کے تحت کرنا ہے۔ اس کو اپنے سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت ٹالرنس کا طریقہ اختیار کر کے دوسروں کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader