تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
رواداری کا نام ہے۔ اس کے برعکس، رواداری زیادہ عام ہے۔ رواداری کا مطلب ہے ایسے طرزِ عمل، اعتقاد اور خیالات، وغیرہ کو گوارا کرنا جن سے آپ کو اتفاق نہ ہو یا جو آپ کے نزدیک قابل قبول نہ ہوں۔ اس کا تعلق زندگی کے ہر معاملے سے ہے، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔ رواداری کا طریقہ مزاج کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، وہ قانون کے زور پر قائم نہیں ہوتا۔ یہ دراصل اپنی حقیقت کے اعتبار سے سماجی اخلاقیات کا معاملہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہو، تاکہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے رویے کا انتخاب کر سکے۔ اس معاملے میں صحت مند طریقہ (healthy method) یہ ہے کہ ہر ایک آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرے، اور اسی کے ساتھ وہ دل سے اس پر راضی ہو کہ دوسرے کو بھی یہ حق ہے کہ وہ جس رائے کو بھی درست سمجھتا ہو، اس کو وہ آزادانہ طور پر ظاہر کرے۔ صحت مند رواداری یہ ہے کہ کسی فریق پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالا جائے۔ ہر ایک جیو اور جینے دو (live and let live) کے اصول پر قائم رہے۔ ہر ایک کا مزاج یہ ہو کہ جس طرح اس کو خدا کی طرف سے آزادی حاصل ہے، یعنی جس بات کو وہ حق سمجھتا ہے اس کو وہ اختیار کرے، اور جس بات کو وہ ناحق سمجھتا ہے، اس کو وہ رد کرے۔ اسی طرح خدا کی طرف سے دوسروں کو بھی یہ آزادی ملی ہوئی ہے۔ ادنی درجے میں بھی کسی کے ساتھ ناانصافی کا سلوک نہ کیا جائے۔ ٹالرنس، فطرت کا اصول ٹالرنس (رواداری، برداشت) فطرت کا ایک یونیورسل اصول ہے۔ شیر اور ہاتھی دونوں انتہائی بڑے جانور ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے حریف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر بھی دونوں ایک ساتھ جنگل میں رہتے ہیں۔ یہ صرف ٹالرنس کے ذریعہ ممکن ہوتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader