تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 333
By Maulana Wahiduddin Khan
رواداری کی خصلت آدمی کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو غیر ضروری چیز میں ضائع کرنے لگے۔ جب آپ کسی کے خلاف مزاج بات سے منفی اثر قبول کرلیں تو آپ کا ذہنی اعتدال بگڑ جائے گا۔ اس کے برعکس، جب اس طرح کی صورت پیش آنے پر آپ اس کا منفی اثر نہ لیں تو آپ کا ذہنی اعتدال پوری طرح برقرار رہے گا۔ آپ اپنا ایک لمحہ کھوئے بغیر ایک نارمل انسان کی طرح ہمیشہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔ رواداری اور تحمل کی پالیسی آپ کی کارکردگی کی عمر کو بڑھاتی ہے، اور نارواداری اور عدم تحمل کا رویہ آپ کی کارکردگی کی عمر کو گھٹا دیتا ہے۔ رواداری یا ٹالرنس کوئی مجبورانہ فعل نہیں، وہ زندگی کا ایک مثبت اصول ہے۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی کردار ہے۔ کسی سماج میں روادار انسانوں کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے کسی باغ میں پھول کا ہونا۔ پھول کے بغیر باغ نہیں، اسی طرح روادار انسانوں کے بغیر ترقی یافتہ سماج نہیں۔ (آل انڈیا ریڈیو ممبئی سے 3 مارچ 1995ء کو نشر کیا گیا) جاہلوں سے اعراض اسلام کا ایک اہم اصول ہے جس کو قرآن میں جاہلوں سے اعراض کہا گیا ہے (7:199)۔ سیرت ابن ہشام میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ، عِشْرُونَ رَجُلًا أَوْ قَرِيبٌ مِنْ ذَلِكَ مِنَ النَّصَارَى حِينَ بَلَغَهُمْ خَبَرُهُ مِنْ الْحَبَشَةِ. فَوَجَدُوهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَلَسُوا إِلَيْهِ وَكَلَّمُوهُ وَسَأَلُوهُ، وَرِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِي أَنْدِيَتِهِمْ حَوْلَ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ مَسْأَلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم عَمَّا أَرَادُوا دَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَلَا عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ. فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ فَاضَتْ أَعْيُنُهُمْ مِنْ الدَّمْعِ، ثُمَّ اسْتَجَابُوا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader